Wednesday, 7 December 2016

کہا تھا اس نے محبت کی آبرو رکھنا

کہا تھا اس نے محبت کی آبرو رکھنا
چبھے ہوں کتنے ہی کانٹے گلوں کی خو رکھنا
دلوں کو توڑ نہ ڈالے تمہاری حق گوئی
بجائے حرف کے آئینہ روبرو رکھنا
جو وقت اہلِ وفا سے کبھی لہو مانگے
تو سب سے پہلے لبِ تیغ پر گلو رکھنا
فقیہِ شہر کے فتوے کی حیثیت کیا ہے
تُو خود کو اپنی نگاہوں میں سرخرو رکھنا
وصالِ دوست کی ساعت بھی آنے والی ہے
سحر قریب ہے اکبرؔ ابھی وضو رکھنا

اکبر حمیدی

No comments:

Post a Comment