کہا تھا اس نے محبت کی آبرو رکھنا
چبھے ہوں کتنے ہی کانٹے گلوں کی خو رکھنا
دلوں کو توڑ نہ ڈالے تمہاری حق گوئی
بجائے حرف کے آئینہ روبرو رکھنا
جو وقت اہلِ وفا سے کبھی لہو مانگے
فقیہِ شہر کے فتوے کی حیثیت کیا ہے
تُو خود کو اپنی نگاہوں میں سرخرو رکھنا
وصالِ دوست کی ساعت بھی آنے والی ہے
سحر قریب ہے اکبرؔ ابھی وضو رکھنا
اکبر حمیدی
No comments:
Post a Comment