نذرِ جون ایلیا
چشمِ نم بے خواب ہے ہر پیرہن بے رنگ ہے
جون تیرے بعد یہ شہرِ سخن بے رنگ ہے
کس سے پوچھوں حرف اور معنی کے رشتہ ہائے نو
کیا نیا لکھوں کہ میرا بانکپن بے رنگ ہے
اب غبارِ رنگ پر افشاں فضا میں ہو تو کیا
جو سراپا رنگ تھا اس کا کفن بے رنگ ہے
نذرِ جون ایلیا
چشمِ نم بے خواب ہے ہر پیرہن بے رنگ ہے
جون تیرے بعد یہ شہرِ سخن بے رنگ ہے
کس سے پوچھوں حرف اور معنی کے رشتہ ہائے نو
کیا نیا لکھوں کہ میرا بانکپن بے رنگ ہے
اب غبارِ رنگ پر افشاں فضا میں ہو تو کیا
جو سراپا رنگ تھا اس کا کفن بے رنگ ہے
فقط ہم کو یہ درد و غم نہیں ہیں
گلی کوچے بھی بے ماتم نہیں ہیں
یہی تو انتظامی حادثہ ہے
ہمارا شہر ہے، اور ہم نہیں ہیں
میرے ہاتھوں ہی میرا قتل کر دو
تمہارے معجزے بھی کم نہیں ہیں
شجرِ ممنوعہ
صدائے خداوند قدوس ہے
خدائے زمان و مکاں کی صدا
زمیں آسماں سے ابھرتی صدا
وَلا تَقْرَبَا هَذِهِ الشَّجَرَةَ
وہ کہتا ہے؛ دیکھو پہ چُھونا نہیں
رنج دل سے نکل گئے سارے
ایسی چاہت سے آ ملے سارے
ڈھل گئی رات، اٹھ چکی محفل
اب تم آئے ہو جب گئے سارے
نام اس کا ہے یا کوئی خوشبو؟
بام و در تک مہک اٹھے سارے
یہ مانا حادثہ ایسا نہیں ہے
مگر دل سہہ گیا، ایسا نہیں ہے
وہ پہلا زخم تو جاں لے نہ پایا
مگر یہ دوسرا ایسا نہیں ہے
خدا نے ہی ہماری قسمتوں میں
بچھڑنا لکھ دیا، ایسا نہیں ہے