Showing posts with label رامش عثمانی. Show all posts
Showing posts with label رامش عثمانی. Show all posts

Tuesday, 16 November 2021

چشم نم بے خواب ہے ہر پیرہن بے رنگ ہے

 نذرِ جون ایلیا


چشمِ نم بے خواب ہے ہر پیرہن بے رنگ ہے

جون تیرے بعد یہ شہرِ سخن بے رنگ ہے

کس سے پوچھوں حرف اور معنی کے رشتہ ہائے نو

کیا نیا لکھوں کہ میرا بانکپن بے رنگ ہے

اب غبارِ رنگ پر افشاں فضا میں ہو تو کیا

جو سراپا رنگ تھا اس کا کفن بے رنگ ہے

Saturday, 30 October 2021

فقط ہم کو یہ درد و غم نہیں ہیں

 فقط ہم کو یہ درد و غم نہیں ہیں

گلی کوچے بھی بے ماتم نہیں ہیں

یہی تو انتظامی حادثہ ہے

ہمارا شہر ہے، اور ہم نہیں ہیں

میرے ہاتھوں ہی میرا قتل کر دو

تمہارے معجزے بھی کم نہیں ہیں

شجر ممنوعہ صدائے خداوند قدوس ہے

 شجرِ ممنوعہ


صدائے خداوند قدوس ہے

خدائے زمان و مکاں کی صدا

زمیں آسماں سے ابھرتی صدا

وَلا تَقْرَبَا هَذِهِ الشَّجَرَةَ

وہ کہتا ہے؛ دیکھو پہ چُھونا نہیں

Saturday, 14 August 2021

رنج دل سے نکل گئے سارے

 رنج دل سے نکل گئے سارے

ایسی چاہت سے آ ملے سارے

ڈھل گئی رات، اٹھ چکی محفل

اب تم آئے ہو جب گئے سارے

نام اس کا ہے یا کوئی خوشبو؟

بام و در تک مہک اٹھے سارے

Wednesday, 9 December 2020

یہ مانا حادثہ ایسا نہیں ہے

 یہ مانا حادثہ ایسا نہیں ہے

مگر دل سہہ گیا، ایسا نہیں ہے

وہ پہلا زخم تو جاں لے نہ پایا

مگر یہ دوسرا ایسا نہیں ہے

خدا نے ہی ہماری قسمتوں میں

بچھڑنا لکھ دیا، ایسا نہیں ہے