دل آرزوئے زر لیے ہرگز جِیا نہیں
صد شکر یہ مِزاج ہی ہم کو مِلا نہیں
اوروں کے معبدوں کو جو ڈھا کر کرے ہو ناز
وہ بندۂ خُدا ہی سہی با خُدا نہیں
مایوسیوں کی گرچہ رہا یہ لپیٹ میں
اُمید کا دِیا مگر اپنا بجھا نہیں
قدریں حسِین اک اک کر کے مِٹ گئیں
اپنوں میں بھی وہ پہلے سے صِدق و صفا نہیں
پہنچیں دِلوں کو زحمتِ فن سے اذیتیں
فنکار کا رہا یہ کبھی مُدعا نہیں
ملک تاسے
No comments:
Post a Comment