Sunday, 18 October 2026

سرد راتوں کی ردا ڈوبتی نیندوں کی تھکن

 سرد راتوں کی رِدا، ڈوبتی نیندوں کی تھکن 

ہو گئی صبح نہ ٹُوٹی مِرے خوابوں کی تھکن 

آنکھ میں پِگھلے ہوئے سانولے چہروں کی نمی 

دھیان میں گُونجتی خاموش صداؤں کی تھکن 

ایک سایا بھی نہ اُبھرا مِری گلیوں کے قریب 

راستہ دیکھتے پتھرا گئی آنکھوں کی تھکن 

شل ہوئے جاتے ہیں ہر پیڑ کے سُوکھے بازو 

ڈھل گئی زرد خزاؤں میں بہاروں کی تھکن 

باغ میں پھیلتی تنہائی کے بوجھل پاؤں 

گِرتے پتوں کی تھکن، گرم دوپہروں کی تھکن 

لال پھُولوں سا دمکتا ہُوا رُخسار کا رنگ 

وہ سیہ زُلف کہ پھُٹ پڑتی گھٹاؤں کی تھکن

اک تِرے جسم کی سج دھج میں سِمٹ آئی ہے 

جوشِ تخلیق سے گھبرائے خُداؤں کی تھکن 

گھنٹیاں گُنگ ہوئیں، قافلے گُم ہو بھی گئے 

دشت میں گُونجی مگر آج بھی قدموں کی تھکن 

آنکھ میں آتے زمانوں کے خلاؤں کا سکوت 

دھیان میں بِیتی ہوئی ہانپتی صدیوں کی تھکن 

ٹوٹ کر اپنے ہی گرداب میں گم ہوتی رہی 

چاند کے سحر میں چڑھتی ہوئی موجوں کی تھکن 

دل پہ اک بار سا خاموش تمناؤں کی دُھول 

ہونٹ پر جمتی ہوئی اَن کہی باتوں کی تھکن 

وقت کا بوجھ لیے پھِرتا رہا ہُوں سرمد 

جسم سے لِپٹی ہے دم توڑتے لمحوں کی تھکن


سرمد صہبائی

No comments:

Post a Comment