رات ہے اِضطراب کی چادر
جیسے صحرا سراب کی چادر
آگ میں ہم جُھلس گئے اتنے
اوڑھ لی پھر عذاب کی چادر
ایک منظر میں سِمٹے ہم دونوں
تان کر اِنتساب کی چادر
میرے جوگی ابھی تو دھیرے بول
میں نے تانی ہے خواب کی چادر
تم مجھے آئینے سے لگتے ہو
جیسے ہوتی ہے آب کی چادر
رُوح نے جسم اوڑھ رکھا ہے
اب چڑھاؤ گُلاب کی چادر
شاہ رخ عبیر
No comments:
Post a Comment