Showing posts with label عزم بہزاد. Show all posts
Showing posts with label عزم بہزاد. Show all posts

Wednesday, 20 April 2022

میں نے کل خواب میں آئندہ کو چلتے دیکھا

 میں نے کل خواب میں آئندہ کو چلتے دیکھا

رزق اور عشق کو اک گھر سے نکلتے دیکھا

روشنی ڈھونڈ کے لانا کوئی مشکل تو نہ تھا

لیکن اس دوڑ میں ہر شخص کو جلتے دیکھا

ایک خوش فہم کو روتے ہوئے دیکھا میں نے

ایک بے رحم کو اندر سے پگھلتے دیکھا

Saturday, 7 November 2020

بہت قرینے کی زندگی تھی عجب قیامت میں آ بسا ہوں

 بہت قرینے کی زندگی تھی عجب قیامت میں آ بسا ہوں

سکون کی صبح چاہتا تھا سو شامِ وحشت میں آ بسا ہوں

میں اپنی انگشت کاٹتا تھا کہ بیچ میں نیند آ نہ جائے

اگرچہ سب خواب کا سفر تھا مگر حقیقت میں آ بسا ہوں

وصالِ فردا کی جستجو میں نشاطِ امروز گھٹ رہا ہے

یہ کس طلب میں گھرا ہوا ہوں یہ کس اذیت میں آ بسا ہوں

Friday, 28 August 2015

اس آنکھ سے وحشت کی تاثیر اٹھا لایا

اس آنکھ سے وحشت کی تاثیر اٹھا لایا
میں جاگتے رہنے کی تدبیر اٹھا لایا
میں نیّتِ شب خوں سے خیمے میں گیا لیکن
دشمن کے سرہانے سے شمشیر اٹھا لایا
وہ صبحِ رہائی تھی یا شامِ اسیری تھی
جب میں درِ زنداں سے زنجیر اٹھا لایا

Monday, 4 May 2015

شام آئی تو کوئی خوش بدنی یاد آئی

شام آئی تو کوئی خوش بَدَنی یاد آئی
مجھے اِک شخص کی وعدہ شِکنی یاد آئی
مجھے یاد آیا کہ وہ دَور تھا سرگوشی کا
آج اسی دَور کی اِک کم سُخنی یاد آئی
مسندِ نغمہ سے اِک رنگِ تبسم ابھرا
کھِلکھِلاتی ہوئی غُنچہ دَہَنی یاد آئی

یہ محفل کی خاموشی ہے یا اظہار کی تنہائی

یہ محفل کی خاموشی ہے، یا اِظہار کی تنہائی
ہر سرگوشی میں پِنہاں ہے اِک پِندار کی تنہائی
ایک بہار کے آ جانے سے کیسے گم ہو جائے گی
ایک طویل خزاں میں لِپٹے اِک گلزار کی تنہائی
ہِجر کی دھوپ سے ڈرنے والا اِک سائے میں جا بیٹھا
لیکن جس کو سایہ سمجھا، تھی دیوار کی تنہائی

اب کہاں ہیں نگہ یار پہ مرنے والے

اب کہاں ہیں نِگہِ یار پہ مرنے والے
صورتِ شمع سرِ شام سنورنے والے
رونقِ شہر انہیں اپنے تجسّس میں نہ رکھ
یہ مسافر ہیں کسی دل میں ٹھہرنے والے
کس قدر کرب میں بیٹھے ہیں سرِ ساحلِ غم
ڈوب جانے کی تمنا میں ابھرنے والے

کتنے موسم سرگرداں تھے مجھ سے ہاتھ ملانے میں

کتنے موسم سرگرداں تھے مجھ سے ہاتھ ملانے میں
میں نے شاید دیر لگا دی خود سے باہر آنے میں
ایک نگاہ کا سناٹا ہے، اک آواز کا بنجر پن
میں کتنا تنہا بیٹھا تھا قربت کے ویرانے میں
بستر سے کروٹ کا رشتہ ٹوٹ گیا اک یاد کے ساتھ
خواب سرہانے سے اٹھ بیٹھا تکیے کو سرکانے میں

رستے میں جب شام آ جائے صبح بہت یاد آتی ہے

رَستے میں جب شام آ جائے صبح بہت یاد آتی ہے
ایک ملال کی لہر لہو میں آنسو ٹپکا جاتی ہے
شام آتے ہی تنہائی کے رنگ چمکنے لگتے ہیں
ایک اداسی دل کے اندر اپنے پاؤں جماتی ہے
ایک عجیب رفاقت ہے جو کھُل کر بھی کھُلتی ہی نہیں
روز نئے پیرائے میں اپنا احوال سناتی ہے

جو بات شرط وصال ٹھہری وہی ہے اب وجہ بدگمانی

جو بات شرطِ وصال ٹھہری وہی ہے اب وجہ بد گمانی
ادھر ہے اس بات پر خموشی ادھر ہے پہلی سے بے زبانی
کسی ستارے سے کیا شکایت کہ رات سب کچھ بجھا ہوا تھا
فسردگی لکھ رہی تھی دل پر شکستگی کی نئی کہانی
عجیب آشوبِ وضع داری ہمارے اعصاب پر ہے طاری
لبوں پہ ترتیب خوش کلامی دلوں میں تنظیمِ نوحہ خوانی

کچھ نہ پانے کی ملامت کچھ نہ کھونے کا تماشا

کچھ نہ پانے کی ملامت، کچھ نہ کھونے کا تماشا
جانے کتنے دن رہے گا میرے ہونے کا تماشا
اس ادھوری گفتگو سے خود کو میں بہلاؤں کب تک
مجھ کو یہ محفل نظر آتی ہے رونے کا تماشا
یہ کوئی بارش نہیں ہے جس میں سب کچھ بھیگ جائے 
یہ ہے خواہش کی زمیں پر رونے دھونے کا تماشا

تشنگی وہ تھی کہ سیرابی کا چہرہ جل گیا

تشنگی وہ تھی کہ سیرابی کا چہرہ جل گیا
میں لبِ دریا جو پہنچا سارا دریا جل گیا
اب نئے منظر میں بیٹھا ہوں ارادوں کے بغیر
جُستجُو کی سانس کیا پھُولی کہ سینہ جل گیا
میں خزاں کا آئینہ تھا اپنی ویرانی سے خوش
تم نے مجھ میں باغ ڈھونڈا، میرا صحرا جل گیا

Tuesday, 10 July 2012

وسعت چشم کو اندوہ بصارت لکھا

وُسعتِ چشم کو اندوہِ بصارت لکھا
میں نے اِک وصل کو اِک ہجر کی حالت لکھا
میں نے لکھا کہ صفحۂ دل کبھی خالی نہ ہو
اور کبھی خالی ہو بھی تو ملامت لکھا
میں نے پرواز لکھی حدِ فلک سے آگے
اور بے بال و پری کو بھی نہایت لکھا

Wednesday, 4 July 2012

کہاں گئے وہ لہجے دل میں پھول کھلانے والے

کہاں گئے وہ لہجے دل میں پھول کھلانے والے 
آنکھیں دیکھ کے خوابوں کی تعبیر بتانے والے 
کدھر گئے وہ رستے جن میں منزل پوشیدہ تھی 
کدھر گئے، وہ ہاتھ مسلسل راہ دکھانے والے 
کہاں گئے وہ لوگ جنہیں ظلمت منظور نہیں تھی 
دیا جلانے کی کوشش میں ‌خود جل جانے والے