میں نے کل خواب میں آئندہ کو چلتے دیکھا
رزق اور عشق کو اک گھر سے نکلتے دیکھا
روشنی ڈھونڈ کے لانا کوئی مشکل تو نہ تھا
لیکن اس دوڑ میں ہر شخص کو جلتے دیکھا
ایک خوش فہم کو روتے ہوئے دیکھا میں نے
ایک بے رحم کو اندر سے پگھلتے دیکھا
میں نے کل خواب میں آئندہ کو چلتے دیکھا
رزق اور عشق کو اک گھر سے نکلتے دیکھا
روشنی ڈھونڈ کے لانا کوئی مشکل تو نہ تھا
لیکن اس دوڑ میں ہر شخص کو جلتے دیکھا
ایک خوش فہم کو روتے ہوئے دیکھا میں نے
ایک بے رحم کو اندر سے پگھلتے دیکھا
بہت قرینے کی زندگی تھی عجب قیامت میں آ بسا ہوں
سکون کی صبح چاہتا تھا سو شامِ وحشت میں آ بسا ہوں
میں اپنی انگشت کاٹتا تھا کہ بیچ میں نیند آ نہ جائے
اگرچہ سب خواب کا سفر تھا مگر حقیقت میں آ بسا ہوں
وصالِ فردا کی جستجو میں نشاطِ امروز گھٹ رہا ہے
یہ کس طلب میں گھرا ہوا ہوں یہ کس اذیت میں آ بسا ہوں