Wednesday, 20 April 2022

میں نے کل خواب میں آئندہ کو چلتے دیکھا

 میں نے کل خواب میں آئندہ کو چلتے دیکھا

رزق اور عشق کو اک گھر سے نکلتے دیکھا

روشنی ڈھونڈ کے لانا کوئی مشکل تو نہ تھا

لیکن اس دوڑ میں ہر شخص کو جلتے دیکھا

ایک خوش فہم کو روتے ہوئے دیکھا میں نے

ایک بے رحم کو اندر سے پگھلتے دیکھا

روز پلکوں پہ گئی رات کو روشن رکھا

روز آنکھوں میں گئے دن کو مچلتے دیکھا

صبح کو تنگ کیا خود پہ ضرورت کا حصار

شام کو پھر اسی مشکل سے نکلتے دیکھا

ایک ہی سمت میں کب تک کوئی چل سکتا ہے

ہاں کسی نے مجھے رستہ نہ بدلتے دیکھا

عزم اس شہر میں اب ایسی کوئی آنکھ نہیں

گرنے والے کو یہاں جس نے سنبھلتے دیکھا


عزم بہزاد

No comments:

Post a Comment