Wednesday, 20 April 2022

الفت میں تیری راہ صداقت کے باوجود

 الفت میں تیری راہ صداقت کے باوجود

بدنام ہو گیا ہوں شرافت کے باوجود

لرزش ہو ہاتھ میں کہ بہے اشک آنکھ سے

پڑھنا پڑے گا خط کو طوالت کے باوجود

آخر کہ تونے شیشۂ دل توڑ ہی دیا

اے پیکر جمال حفاطت کے باوجود

مجرم مجھے ہی کہتا ہے اب بھی مرا ضمیر

افسوس ذہن ودل کی وکالت کے باوجود

مجھ کو ہی تک رہی ہے تمہاری نگاہ ناز

جان اسد! ہزار شکایت کے باوجود


اسد ہاشمی

No comments:

Post a Comment