الفت میں تیری راہ صداقت کے باوجود
بدنام ہو گیا ہوں شرافت کے باوجود
لرزش ہو ہاتھ میں کہ بہے اشک آنکھ سے
پڑھنا پڑے گا خط کو طوالت کے باوجود
آخر کہ تونے شیشۂ دل توڑ ہی دیا
اے پیکر جمال حفاطت کے باوجود
مجرم مجھے ہی کہتا ہے اب بھی مرا ضمیر
افسوس ذہن ودل کی وکالت کے باوجود
مجھ کو ہی تک رہی ہے تمہاری نگاہ ناز
جان اسد! ہزار شکایت کے باوجود
اسد ہاشمی
No comments:
Post a Comment