ہاں میں خواب سجاتی ہوں
دن کو رات بناتی ہوں
جس پر شام ٹہلتی ہے
چنچل نور اُگاتی ہوں
گھر دالان میں رکھنے کو
چھت سے دھوپ چراتی ہوں
درپن جاگ رہا میرا
سپنے ساتھ سلاتی ہوں
گیلی ریت پہ قدموں سے
زندہ داغ لگاتی ہوں
روٹھے گیت منانے ہیں
سُر سے تال ملاتی ہوں
من کی آگ بجھانے کو
دیپک راگ سُناتی ہوں
اپنی ذات کے میلے میں
کتنا شور مچاتی ہوں
خود سے روٹھ گئی کب سے
خود کو روز مناتی ہوں
تابندہ سراج
No comments:
Post a Comment