Wednesday, 20 April 2022

ہاں میں خواب سجاتی ہوں

 ہاں میں خواب سجاتی ہوں

دن کو رات بناتی ہوں

جس پر شام ٹہلتی ہے

چنچل نور اُگاتی ہوں

گھر دالان میں رکھنے کو

چھت سے دھوپ چراتی ہوں

درپن جاگ رہا میرا

سپنے ساتھ سلاتی ہوں

گیلی ریت پہ قدموں سے

زندہ داغ لگاتی ہوں

روٹھے گیت منانے ہیں

سُر سے تال ملاتی ہوں

من کی آگ بجھانے کو

دیپک راگ سُناتی ہوں

اپنی ذات کے میلے میں

کتنا شور مچاتی ہوں

خود سے روٹھ گئی کب سے

خود کو روز مناتی ہوں


تابندہ سراج

No comments:

Post a Comment