Wednesday, 20 April 2022

تم جو چاہو تو کہانی یہ سنا دیتے ہیں

 تم جو چاہو تو کہانی یہ سنا دیتے ہیں

کس طرح لوگ محبت میں دغا دیتے ہیں

ورنہ یہ رازِ محبت تو عیاں ہوتا نہیں

لوگ کم ظرف کئی شور مچا دیتے ہیں

کس طرح ان کو فلک چُھونے سے روکے گی ہوا

جن پرندوں کو ہرے پیڑ دعا دیتے ہیں

میں جنہیں چھوڑ کے پردیس چلا آیا ہوں

راستے آج بھی گاؤں کے صدا دیتے ہیں

گر یقیں آتا نہیں ہے تجھے اس وحشت کا

زخم صحرا تجھے سینے کے دکھا دیتے ہیں

یہ ضروری تو نہیں دوش ہوا کا نکلے

پیڑ خود بھی تو پرندوں کو اڑا دیتے ہیں

دوستوں سے جو عطا ہوتے ہیں گھاؤ یاسر

تذکرہ کرتے نہیں ان کا، بُھلا دیتے ہیں


یاسر گیلانی

No comments:

Post a Comment