Wednesday, 20 April 2022

اگر نظم کو اغوا کیا جا سکتا

اگر نظم کو اغوا کیا جا سکتا

تو میں نظم کے ہاتھ پاؤں باندھ کر

منہ پر ٹیپ چپکا کر

اٹھا لاتی اسے

اور مانگتی تاوان میں

سرمئی بادل، کاسنی بارش

نیلی جھیلیں، آبی پرندوں کی ڈاریں

خوابوں کی اداسی

بے تاریخ زمانوں کی تنہائی

اور وہ ساری نظمیں

جنہیں نظم

لکھے بغیر لکھتی رہتی ہے

اور وہ پہاڑی راستہ بھی

جہاں سے نظم کا پاؤں پھسلا

اور فریکچر ہو گیا

لیکن نظم کو اغوا کرنا آسان نہیں

نظم نصیر احمد ناصر ہے


قرۃ العین شعیب

No comments:

Post a Comment