اگر نظم کو اغوا کیا جا سکتا
تو میں نظم کے ہاتھ پاؤں باندھ کر
منہ پر ٹیپ چپکا کر
اٹھا لاتی اسے
اور مانگتی تاوان میں
سرمئی بادل، کاسنی بارش
نیلی جھیلیں، آبی پرندوں کی ڈاریں
خوابوں کی اداسی
بے تاریخ زمانوں کی تنہائی
اور وہ ساری نظمیں
جنہیں نظم
لکھے بغیر لکھتی رہتی ہے
اور وہ پہاڑی راستہ بھی
جہاں سے نظم کا پاؤں پھسلا
اور فریکچر ہو گیا
لیکن نظم کو اغوا کرنا آسان نہیں
نظم نصیر احمد ناصر ہے
قرۃ العین شعیب
No comments:
Post a Comment