Showing posts with label خالد جاوید جان​. Show all posts
Showing posts with label خالد جاوید جان​. Show all posts

Monday, 12 August 2024

کر بشر کا احترام اس میں خدا موجود ہے

 کر بشر کا احترام، اس میں خدا موجود ہے

یعنی جو محدود لگتا وہ لا محدود ہے

سنگ ہے یا سنگدل، غائب ہے یا موجود ہے

دل جسے بھی مان لیتا ہے، وہی معبود ہے

وہ بھی دن تھے مرکزِ محفل ہوا کرتے تھے ہم

اپنا جیون اب کسی کے ذکر تک محدود ہے

Friday, 28 January 2022

سب راز پرانے کھولے گا اک روز کٹہرا بولے گا

 اک روز کٹہرا بولے گا


ہر ایک عدالت میں یارو

اِک چیز کٹہرا ہوتی ہے

یہ چیز بھی کیسی یکتا ہے

نہ ہنستی ہے نہ روتی ہے

اِس ایک کٹہرے نے اب تک

Tuesday, 11 January 2022

جاگ اٹھا پنجاب تو جاگا سارا پاکستان

 جاگ اٹھا پنجاب تو جاگا سارا پاکستان

ساتھ چلا ہے کے پی کے اور سندھ بلوچستان

ہاتھ میں دے کر ہاتھ بچانے نکلے پاکستان

جاگ اٹھا پنجاب تو جاگا سارا پاکستان


ہم سب بھائی بھائی ہیں کیا فوجی اور عوام

ایک ہی اپنی منزل ہے اور ایک ہی اپنا دھام

Saturday, 1 January 2022

اسلام ہے جمہوریت آمریت ہے حرام

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

 اسلام ہے جمہوریت

(شہیدِ کربلا کے حضور)


اس پر سلام پہنچے کہ

جس نے اپنے خون سے

وقت کی پیشانی پر

یہ قولِ زرّیں لکھ دیا؛

Sunday, 27 December 2020

یا تو زنداں یا سر دار یہی ہوتا ہے

 یا تو زنداں، یا سرِ دار، یہی ہوتا ہے

ظلم کے عہد میں سرکار، یہی ہوتا ہے

حاکمِ شہر ہے، سوداگرِ ایمان و ضمیر

کچھ بھی ہو جائے، خریدار یہی ہوتا ہے

سر کٹا دینا، مگر سر کو جھکانا نہ کبھی

جس کو کہتے ہیں نا انکار، یہی ہوتا ہے

Saturday, 26 December 2020

میں باغی ہوں میں باغی ہوں

 میں باغی ہوں


اس دور کے رسم رواجوں سے

ان تختوں سے ان تاجوں سے

جو ظلم کی کوکھ سے جنتے ہیں

انسانی خون سے پلتے ہیں

جو نفرت کی بنیادیں ہیں

اور خونی کھیت کی کھادیں ہیں