کر بشر کا احترام، اس میں خدا موجود ہے
یعنی جو محدود لگتا وہ لا محدود ہے
سنگ ہے یا سنگدل، غائب ہے یا موجود ہے
دل جسے بھی مان لیتا ہے، وہی معبود ہے
وہ بھی دن تھے مرکزِ محفل ہوا کرتے تھے ہم
اپنا جیون اب کسی کے ذکر تک محدود ہے
کر بشر کا احترام، اس میں خدا موجود ہے
یعنی جو محدود لگتا وہ لا محدود ہے
سنگ ہے یا سنگدل، غائب ہے یا موجود ہے
دل جسے بھی مان لیتا ہے، وہی معبود ہے
وہ بھی دن تھے مرکزِ محفل ہوا کرتے تھے ہم
اپنا جیون اب کسی کے ذکر تک محدود ہے
اک روز کٹہرا بولے گا
ہر ایک عدالت میں یارو
اِک چیز کٹہرا ہوتی ہے
یہ چیز بھی کیسی یکتا ہے
نہ ہنستی ہے نہ روتی ہے
اِس ایک کٹہرے نے اب تک
جاگ اٹھا پنجاب تو جاگا سارا پاکستان
ساتھ چلا ہے کے پی کے اور سندھ بلوچستان
ہاتھ میں دے کر ہاتھ بچانے نکلے پاکستان
جاگ اٹھا پنجاب تو جاگا سارا پاکستان
ہم سب بھائی بھائی ہیں کیا فوجی اور عوام
ایک ہی اپنی منزل ہے اور ایک ہی اپنا دھام
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
اسلام ہے جمہوریت
(شہیدِ کربلا کے حضور)
اس پر سلام پہنچے کہ
جس نے اپنے خون سے
وقت کی پیشانی پر
یہ قولِ زرّیں لکھ دیا؛
یا تو زنداں، یا سرِ دار، یہی ہوتا ہے
ظلم کے عہد میں سرکار، یہی ہوتا ہے
حاکمِ شہر ہے، سوداگرِ ایمان و ضمیر
کچھ بھی ہو جائے، خریدار یہی ہوتا ہے
سر کٹا دینا، مگر سر کو جھکانا نہ کبھی
جس کو کہتے ہیں نا انکار، یہی ہوتا ہے
میں باغی ہوں
اس دور کے رسم رواجوں سے
ان تختوں سے ان تاجوں سے
جو ظلم کی کوکھ سے جنتے ہیں
انسانی خون سے پلتے ہیں
جو نفرت کی بنیادیں ہیں
اور خونی کھیت کی کھادیں ہیں