کہیں نہ پھر کوئی دار و رسن سے ساز کرے
خدا کسی کو نہ اب آشنائے راز کرے
کہاں تک آدمی حِیل خِرد سے ساز کرے
فضائے دہر کو اللہ جنوں نواز کرے
نہ پُوچھ مرتبہ اس کے مقامِ عالی کا
جسے وہ فِکر دو عالم سے بے نیاز کرے
کہیں نہ پھر کوئی دار و رسن سے ساز کرے
خدا کسی کو نہ اب آشنائے راز کرے
کہاں تک آدمی حِیل خِرد سے ساز کرے
فضائے دہر کو اللہ جنوں نواز کرے
نہ پُوچھ مرتبہ اس کے مقامِ عالی کا
جسے وہ فِکر دو عالم سے بے نیاز کرے
اب نہ وہ سر ہے نہ سودا ہے نہ سودائی ہے
حُسن خود اپنے ہی جلووں کا تماشائی ہے
رات اندھیری ہے بیاباں بھی ہے تنہائی ہے
حسرت دید خدا جانے کہاں لائی ہے
جلوۂ حُسنِ بُتاں بُوئے گُل و نغمہ سا
اتنے پردوں میں بھی اس شوخ کی رُسوائی ہے
رفتہ رفتہ جذبِ الفت میں کمال آ ہی گیا
ہجر کے پردے سے پیغام وصال آ ہی گیا
اضطرابِ دل بشکلِ راز آخر تا بہ کے
تشنۂ دیدار کے لب پر سوال آ ہی گیا
میرے دستِ آرزو میں لاکھ ناکامی پہ بھی
وہ نہیں تو ان کا دامانِ خیال آ ہی گیا
زمیں سے آسماں تک آسماں سے لا مکاں تک ہے
ذرا پروازِ مُشتِ خاک تو دیکھو کہاں تک ہے
تلاش و جستجو کی حد فقط نام و نشاں تک ہے
سراغِ کارواں بھی بس غبارِ کارواں تک ہے
جبینِ شوق کو کچھ اور بھی اذنِ سعادت دے
یہ ذوقِ بندگی محدود سنگِ آستاں تک ہے
اگرچہ قطرہ ہوں اور بحر سے جدا بھی نہیں
مگر یہ کیا ہے کہ میں بحر آشنا بھی نہیں
یہ جستجو تِری لائی ہے کس جگہ مجھ کو
یہاں تو کوئی تِرا صورت آشنا بھی نہیں
الٰہی کس کا سہارہ وفورِ ضعف میں لوں
لبوں پہ اب تو مِرے آہِ نا رسا بھی نہیں