Showing posts with label وحشی کانپوری. Show all posts
Showing posts with label وحشی کانپوری. Show all posts

Friday, 14 August 2026

کہیں نہ پھر کوئی دار و رسن سے ساز کرے

 کہیں نہ پھر کوئی دار و رسن سے ساز کرے

خدا کسی کو نہ اب آشنائے راز کرے

کہاں تک آدمی حِیل خِرد سے ساز کرے

فضائے دہر کو اللہ جنوں نواز کرے

نہ پُوچھ مرتبہ اس کے مقامِ عالی کا

جسے وہ فِکر دو عالم سے بے نیاز کرے

Wednesday, 11 March 2026

اب نہ وہ سر ہے نہ سودا ہے نہ سودائی ہے

 اب نہ وہ سر ہے نہ سودا ہے نہ سودائی ہے

حُسن خود اپنے ہی جلووں کا تماشائی ہے

رات اندھیری ہے بیاباں بھی ہے تنہائی ہے

حسرت دید خدا جانے کہاں لائی ہے

جلوۂ حُسنِ بُتاں بُوئے گُل و نغمہ سا

اتنے پردوں میں بھی اس شوخ کی رُسوائی ہے

Monday, 27 May 2024

رفتہ رفتہ جذب الفت میں کمال آ ہی گیا

 رفتہ رفتہ جذبِ الفت میں کمال آ ہی گیا

ہجر کے پردے سے پیغام وصال آ ہی گیا

اضطرابِ دل بشکلِ راز آخر تا بہ کے

تشنۂ دیدار کے لب پر سوال آ ہی گیا

میرے دستِ آرزو میں لاکھ ناکامی پہ بھی

وہ نہیں تو ان کا دامانِ خیال آ ہی گیا

Sunday, 9 October 2022

زمیں سے آسماں تک آسماں سے لا مکاں تک ہے

 زمیں سے آسماں تک آسماں سے لا مکاں تک ہے

ذرا پروازِ مُشتِ خاک تو دیکھو کہاں تک ہے

تلاش و جستجو کی حد فقط نام و نشاں تک ہے

سراغِ کارواں بھی بس غبارِ کارواں تک ہے

جبینِ شوق کو کچھ اور بھی اذنِ سعادت دے

یہ ذوقِ بندگی محدود سنگِ آستاں تک ہے

Monday, 10 January 2022

اگرچہ قطرہ ہوں اور بحر سے جدا بھی نہیں

اگرچہ قطرہ ہوں اور بحر سے جدا بھی نہیں

مگر یہ کیا ہے کہ میں بحر آشنا بھی نہیں

یہ جستجو تِری لائی ہے کس جگہ مجھ کو

یہاں تو کوئی تِرا صورت آشنا بھی نہیں

الٰہی کس کا سہارہ وفورِ ضعف میں لوں

لبوں پہ اب تو مِرے آہِ نا رسا بھی نہیں