چہرے
نفسیات کے ماہرِ دِیں کی جانکاری ہے
پیری اور مُریدی بھی شاعری بھی جاری ہے
چہرے پر ریاکاری، جیب تولتی آنکھیں
ہر گھڑی نصیحت کی ہاتھ میں پٹاری ہے
تول کر کریں باتیں، ناپ کر قدم رکھیں
مُسکراہٹیں عنقا، بات کاروباری ہے
چہرے
نفسیات کے ماہرِ دِیں کی جانکاری ہے
پیری اور مُریدی بھی شاعری بھی جاری ہے
چہرے پر ریاکاری، جیب تولتی آنکھیں
ہر گھڑی نصیحت کی ہاتھ میں پٹاری ہے
تول کر کریں باتیں، ناپ کر قدم رکھیں
مُسکراہٹیں عنقا، بات کاروباری ہے
تم نے جب دنیا الگ اپنی بسا رکھی ہے
میں نے پھر کس لیے یہ بزم سجا رکھی ہے
نہ کوئی حرفِ تسلی،۔۔ نہ فریبِ وعدہ
شمع امید کی پھر کیوں یہ جلا رکھی ہے
تم کہیں غیر کی محفل میں ہو جلوہ افروز
میں نے کس آس پہ یہ سیج سجا رکھی ہے
چڑھا جو چاند ستاروں نے ساتھ چھوڑ دیا
کلی کھلی تو بہاروں نے ساتھ چھوڑ دیا
حضورِ دوست تکلم کی آرزو تھی، مگر
ملی نظر تو خیالوں نے ساتھ چھوڑ دیا
سفینہ لے کے چلے بادبان لہروں پر
بھنور میں جا کے سہاروں نے ساتھ چھوڑ دیا
یہ محبت ہے دکھاوا مت کہو
میری وحشت کو تماشا مت کہو
ہر کسی کو خضر کا مت نام دو
ہر اندھیرے کو اجالا مت کہو
ریت میں پوشیدہ بیٹھے ہیں بھنور
ایسے ساحل کو کنارا مت کہو
ظلمتوں سے جنگ اپنا کام بن کر رہ گئی
یہ عبادت شغل صبح و شام بن کر رہ گئی
قافلے آتے رہے پرچم اٹھائے درد کے
دل کی وادی شاہراہ عام بن کر رہ گئی
ان سے ملنے کی تمنا اور بچھڑنے کا ملال
دھوپ چھاؤں زندگی کا دام بن کر رہ گئی
درد و کیف کا سنگم دیر تک نہیں رہتا
یہ سرور کا عالم دیر تک نہیں رہتا
فصل گل ہے حاصل گر زندگی کے گلشن کی
کیوں بہار کا موسم دیر تک نہیں رہتا
رنگ اس جہاں کے سب نقش آب ہیں گویا
کوئی رت کوئی موسم دیر تک نہیں رہتا