Showing posts with label کنیز فاطمہ کرن. Show all posts
Showing posts with label کنیز فاطمہ کرن. Show all posts

Monday, 19 October 2026

نفسیات کے ماہر دیں کی جانکاری ہے

 چہرے


نفسیات کے ماہرِ دِیں کی جانکاری ہے

پیری اور مُریدی بھی شاعری بھی جاری ہے

چہرے پر ریاکاری، جیب تولتی آنکھیں

ہر گھڑی نصیحت کی ہاتھ میں پٹاری ہے

تول کر کریں باتیں، ناپ کر قدم رکھیں

مُسکراہٹیں عنقا، بات کاروباری ہے

Monday, 29 June 2026

تم نے جب دنیا الگ اپنی بسا رکھی ہے

تم نے جب دنیا الگ اپنی بسا رکھی ہے

میں نے پھر کس لیے یہ بزم سجا رکھی ہے

نہ کوئی حرفِ تسلی،۔۔ نہ فریبِ وعدہ

شمع امید کی پھر کیوں یہ جلا رکھی ہے

تم کہیں غیر کی محفل میں ہو جلوہ افروز

میں نے کس آس پہ یہ سیج سجا رکھی ہے

Friday, 21 November 2025

چڑھا جو چاند ستاروں نے ساتھ چھوڑ دیا

 چڑھا جو چاند ستاروں نے ساتھ چھوڑ دیا

کلی کھلی تو بہاروں نے ساتھ چھوڑ دیا

حضورِ دوست تکلم کی آرزو تھی، مگر

ملی نظر تو خیالوں نے ساتھ چھوڑ دیا

سفینہ لے کے چلے بادبان لہروں پر

بھنور میں جا کے سہاروں نے ساتھ چھوڑ دیا

Friday, 6 June 2025

یہ محبت ہے دکھاوا مت کہو

 یہ محبت ہے دکھاوا مت کہو

میری وحشت کو تماشا مت کہو

ہر کسی کو خضر کا مت نام دو

ہر اندھیرے کو اجالا مت کہو

ریت میں پوشیدہ بیٹھے ہیں بھنور

ایسے ساحل کو کنارا مت کہو

Monday, 3 January 2022

ظلمتوں سے جنگ اپنا کام بن کر رہ گئی

ظلمتوں سے جنگ اپنا کام بن کر رہ گئی

یہ عبادت شغل صبح و شام بن کر رہ گئی

قافلے آتے رہے پرچم اٹھائے درد کے

دل کی وادی شاہراہ عام بن کر رہ گئی

ان سے ملنے کی تمنا اور بچھڑنے کا ملال

دھوپ چھاؤں زندگی کا دام بن کر رہ گئی

Monday, 29 November 2021

درد و کیف کا سنگم دیر تک نہیں رہتا

درد و کیف کا سنگم دیر تک نہیں رہتا

یہ سرور کا عالم دیر تک نہیں رہتا

فصل گل ہے حاصل گر زندگی کے گلشن کی

کیوں بہار کا موسم دیر تک نہیں رہتا

رنگ اس جہاں کے سب نقش آب ہیں گویا

کوئی رت کوئی موسم دیر تک نہیں رہتا