سرِ شام جب بھی دِیا جلا تو خیال تیری طرف گیا
کوئی تازہ بابِ سخن کُھلا تو خیال تیری طرف گیا
کسی اجنبی سے دیار میں، کسی بےکسی کے غبار میں
کوئی اپنے شہر کا مِل گیا تو خیال تیری طرف گیا
کوئی شام دل کو بھلی لگی تو زمیں ستاروں سے بھر گئی
کہیں چاند ابر میں چُھپ گیا تو خیال تیری طرف گیا