Showing posts with label منور جمیل. Show all posts
Showing posts with label منور جمیل. Show all posts

Monday, 18 March 2024

سر شام جب بھی دیا جلا تو خیال تیری طرف گیا

 سرِ شام جب بھی دِیا جلا تو خیال تیری طرف گیا

کوئی تازہ بابِ سخن کُھلا تو خیال تیری طرف گیا

کسی اجنبی سے دیار میں، کسی بےکسی کے غبار میں

کوئی اپنے شہر کا مِل گیا تو خیال تیری طرف گیا

کوئی شام دل کو بھلی لگی تو زمیں ستاروں سے بھر گئی

کہیں چاند ابر میں چُھپ گیا تو خیال تیری طرف گیا

Sunday, 3 March 2024

ہوا کے ہاتھوں کی مہربانی سے ڈر گئے ہیں

 ہوا کے ہاتھوں کی مہربانی سے ڈر گئے ہیں

یہ پھول خوشبو کی رائیگانی سے ڈر گئے ہیں

ہمیں بھی رخصت کی رسم کچھ تو نباہنا تھی

تمہاری آنکھوں میں آئے پانی سے ڈر گئے ہیں

یہ تیر جتنے فضا میں آ کر ٹھہر گئے ہیں

کسی پرندے کی بے زبانی سے ڈر گئے ہیں

Sunday, 20 March 2022

میرے ہاتھ پر لکھ دو فیصلہ جدائی کا

 فیصلہ


میرے ہاتھ پر لکھ دو

فیصلہ جدائی کا

اتنا مختصر لکھنا

جتنی تم نے مجھ جیسے

کم نصیب شاعر سے

Thursday, 10 March 2022

خداوندا تجھے معلوم ہے میں نے

بے فیض موسم کی رفاقت


خداوندا تجھے معلوم ہے میں نے یہ اپنی عمر

کس بے فیض موسم کی رفاقت میں گزاری ہے

یقین و بے یقینی کی اذیت میں گزاری ہے

خداوندا تجھے معلوم ہے میرے

ہر اک جانب تِری سو نعمتیں بکھری ہوئی تھیں 

ہزاروں راستے تھے، منزلیں تھیں

Friday, 4 March 2022

نظر عذابوں میں گھر گئی ہے سخن سرابوں میں آ گیا ہے

 نظر عذابوں میں گھر گئی ہے سخن سرابوں میں آ گیا ہے

سنا ہے اب کے بہار موسم خزاں کی باتوں میں آ گیا ہے

یہ کیا غضب ہے کہ جس نے عہد بہار چاہا نہ عشق دیکھا

نظام ہجر و وصال سارا اسی کے ہاتھوں میں آ گیا ہے

بہار تو اک مغالطہ ہے خزاں کی روپوش حیرتوں کا

جو اس طلسم جہاں سے گزرا وہ داستانوں میں آ گیا ہے

Monday, 28 February 2022

کوئی نظم کیسے کہیں

 معذرت

کوئی نظم کیسے کہیں کہ ہم

نہ چراغ ہیں

نہ مثال حرف گلاب ہیں

نہ خیال ہیں

نہ کسی کی آنکھ کا خواب ہیں

Friday, 18 February 2022

اپنی دونوں آنکھیں رکھ کر بھول آیا ہوں

 آنکھیں بھول آیا ہوں

جس کمرے میں

تم دونوں اب پہروں تنہا رہتے ہو

اس کمرے میں

غور سے دیکھو

میری کتنی یادوں

Thursday, 17 February 2022

اک پشیمان سی حسرت سے مجھے سوچتا ہے

 اک پشیمان سی حسرت سے مجھے سوچتا ہے

اب یہی شہر محبت سے مجھے سوچتا ہے

میں تو محدود سے لمحوں میں ملا تھا اسسے

پھر بھی وہ کتنی وضاحت سے مجھے سوچتا ہے

میں تو مر جاؤں اگر سوچنے لگ جاؤں اسے

اور وہ کتنی سہولت سے مجھے سوچتا ہے

Thursday, 20 January 2022

دراز دست کو دست عطا کہیں نہ ملا

 دراز دست کو دستِ عطا کہیں نہ ملا

بخیلِ شہر تھا حاجت روا کہیں نہ ملا

فصیلِ شب پہ سحر کا دِیا جلاتا کون

کہ کوئی شخص مجھے جاگتا کہیں نہ ملا

لہو کی آگ تھی روشن ہر اک ہتھیلی پر

کسی بھی ہاتھ پہ رنگِ حنا کہیں نہ ملا