بے فیض موسم کی رفاقت
خداوندا تجھے معلوم ہے میں نے یہ اپنی عمر
کس بے فیض موسم کی رفاقت میں گزاری ہے
یقین و بے یقینی کی اذیت میں گزاری ہے
خداوندا تجھے معلوم ہے میرے
ہر اک جانب تِری سو نعمتیں بکھری ہوئی تھیں
ہزاروں راستے تھے، منزلیں تھیں
روشنی تھی، رنگ تھے، خوشبو تھی
پھولوں سے لدی شاخیں تھیں خواہش کی
تمنائیں لبوں پر مسکراہٹ کے
کئی نغمے سجائے رقص کرتی تھیں
کئی جگنو مِری شاموں کے آنگن سے گُزرتے تھے
مِری ہر آرزو کی اپنی پیشانی تھی
اور ان سے کئی سُورج اُبھرتے تھے
کئی مہتاب چہرے جھیل سی آنکھیں لیے میرے تعاقب میں نکلتے تھے
مجھے آواز دے کر روکنے کی کوششیں کرتے نہ تھکتے تھے
کئی دلدار موسم تھے کہ جن میں
تتلیاں بارش کے رنگوں میں نہاتی، ہاتھ پھیلاتی
مرے قُرب و جوار دیدہ و دل سے گُزرتی تھیں
مگر میں نے
خداوندا تجھے معلوم ہے میں نے
تِری ساری عنایت کو
تِری ان نعمتوں کو آنکھ بھر کر بھی نہیں دیکھا
خداوندا تجھے معلوم ہے، تُو جانتا ہے
کہ مِرے دل اور مِری آنکھوں میں بس وہ
موسم دلدار بستا تھا
اسی موسم کی چاہت اور محبت کا کہیں اقرار بستا تھا
اسی موسم کو دل نے اپنی صبح شام جانا تھا
اگرچہ راہ میں آیا ہوا سارا زمانہ تھا
خداوندا تجھے معلوم ہے، تُو جانتا ہے
دلوں کے زخم اور آنکھوں کی ساری کیفیت پہچانتا ہے
مگر میں نے، اسے جانا نہ پہچانا
مجھے جو بھی کہا اس نے
اسی کو زندگی جانا، اسی کو روشنی جانا
خداوندا تجھے معلوم ہے اس نے
بسر کی زندگی میری
چُرا لی روشنی میری
تجھے معلوم ہے سب کچھ
خداوندا تجھے معلوم ہے سب کچھ
مری عمر گُزشتہ کا، مِری عمر رواں کا ایک اک لمحہ
اسی بے فیض موسم کی رفاقت کے ہی کام آیا
مگر اب میں
خداوندا مگر اب میں محبت کے
اسی بے فیض موسم کے عذابوں اور خوابوں سے
تھکا ہارا ہوا انسان رہائی چاہتا ہوں
تری سو نعمتیں ہیں
ان سے تنہائی کی نعمت چاہتا ہوں
خداوندا تجھے معلوم ہے میں نے
یہ اپنی عمر کس بے فیض موسم کی رفاقت میں گزاری ہے
خداوندا مجھے تنہائی کی نعمت عطا کر دے
منور جمیل
No comments:
Post a Comment