Thursday, 10 March 2022

شہر وفا میں اجنبی چہرا کوئی نہ تھا

 شہر وفا میں اجنبی چہرہ کوئی نہ تھا

اپنا میں کہہ سکوں جسے ایسا کوئی نہ تھا

وہ مجھ کو یاد رکھے دسترس سے باہر ہے

میں اس کو بھول سکوں میرے بس سے باہر ہے

ہو سکے تو فکر و فن کی روشنی بن جائیے

یاد صدیوں تک رہے جو وہ صدی بن جائیے

زندگی میں کچھ ایسی الجھنیں بھی ہوتی ہیں

آدمی سے دانستہ لغزشیں بھی ہوتی ہیں


تنویر واحدی

No comments:

Post a Comment