شہر وفا میں اجنبی چہرہ کوئی نہ تھا
اپنا میں کہہ سکوں جسے ایسا کوئی نہ تھا
وہ مجھ کو یاد رکھے دسترس سے باہر ہے
میں اس کو بھول سکوں میرے بس سے باہر ہے
ہو سکے تو فکر و فن کی روشنی بن جائیے
یاد صدیوں تک رہے جو وہ صدی بن جائیے
زندگی میں کچھ ایسی الجھنیں بھی ہوتی ہیں
آدمی سے دانستہ لغزشیں بھی ہوتی ہیں
تنویر واحدی
No comments:
Post a Comment