Thursday, 10 March 2022

دشمن کا ہو نہ جو ہے مرے یار کا مزاج

چنگیز خاں سے کم نہیں خونخوار کا مزاج 

دشمن کا ہو نہ جو ہے مرے یار کا مزاج 

کچھ پیچ ہے جو بگڑی بنی جان سے حضور 

کیا جانتی نہیں ہوں میں سرکار کا مزاج 

مزدورنی کے عشق میں شاید سڑی ہوا 

گھر والا پوچھتا ہے جو دیوار کا مزاج 

اپنے حرم سے تم نے منگائی مری خبر 

بیری سے کوئی پوچھتا ہے یار کا مزاج 

دولت نساء سے اشرفی خانم نے سچ کہا 

ماشہ گھڑی میں تولہ ہے زردار کا مزاج 

کیونکر خفا نہ تم سے ہو نرگس ستارہ جان 

پوچھا کرو نہ رات کو بیمار کا مزاج 

خاطر میں جوں جوں کرتی ہوں چندو بندوڑ کی 

ملتا نہیں فلک پہ ہے مُردار کا مزاج 

طوطے کی طرح بچی سے کی بے مروتی 

کیسا بُرا ہے آدھے وفادار کا مزاج 

پہلے نہیں کی بعد کیا جس نے جو کہا 

ہے ہے بہت برا ہے یہ انکار کا مزاج 

کیسی ہیں بوڑھے چُونڈے پہ یہ مہربانیاں 

پوچھا جو آج ساس گُنہ گار کا مزاج 

ہاں کے سوا نہیں نہیں آئی زبان پر 

ہرگز اجی نہیں مرا انکار کا مزاج 

ناحق خفا ہو مجھ سے اگر ہو تو خوش رہو 

اے باجی ہے نہیں مرا تکرار کا مزاج 

اے جان! دل حرام سے پرہیز کیا کرے 

رہتا نہیں ہے قابو میں بیمار کا مزاج


میر یار علی جان

No comments:

Post a Comment