ہونٹوں پہ اک سوال تھا تشنہ، عذاب میں
نشتر سا اس نے رکھ دیا لفظِ جواب میں
اک اشک اس طرف تھا پلک پر رُکا ہُوا
موتی ادھر رواں تھا تمنا کے باب میں
کچے گھڑے کی مٹی بکھرتی رہی اِدھر
محشر اُدھر بپا رہا موجِ چناب میں
اُس پار ایک آنکھ میں تعبیر گُم رہی
اِس پار ایک آنکھ سُلگتی تھی خواب میں
ایک جھونپڑی میں جلتی رہیں کچھ جوانیاں
اک قصر میں تھا ایک بُڑھاپا شباب میں
اک آرزو کو لگتے رہے روز چار چاند
اک آس در بدر رہی ہر پل سراب میں
احسان اُس طرف تھی عداوت عروج پر
اِس سمت تھا خلوص محبت کے باب میں
ریاض احمد احسان
No comments:
Post a Comment