اشکوں کا ہی کمال ہے جو آج تک نہیں گیا
دل کی زمین سے مِری، تیرا نمک نہیں گیا
اک عمر تجھ کو سوچ کر اور لگا تار سوچ کر
تھکنا تو چاہیے تھا پر اب بھی میں تھک نہیں گیا
شہ رگ سے بھی قریب ہے پروردگارِ انس و جاں
دستِ دعا اسی لیے سُوئے فلک نہیں گیا
اس درجہ تھا مگن تِری فُرقت کے سوگ میں کہ میں
تیری صدا پہ بھی تیری جانب لپک نہیں گیا
میں نے چکھے ہیں عشق کے جتنے ہیں کربناک پھل
لیکن جو پھل ہے صبر کا اب تک وہ پک نہیں گیا
دل کی طرح ہے ہو بہو بے اختیار یہ قلم
خالی تمہارے وصف سے کوئی ورق نہیں گیا
تہذیب حسین
No comments:
Post a Comment