آنکھیں
آنکھیں
خود بخود شرم سے
جھکنے لگیں
ہونٹ بات بے بات ہنسنے لگے
دراز زلفیں
شرارت پہ آمادہ ہونے لگیں
آنکھیں
آنکھیں
خود بخود شرم سے
جھکنے لگیں
ہونٹ بات بے بات ہنسنے لگے
دراز زلفیں
شرارت پہ آمادہ ہونے لگیں
کیسی ہے میری تشنہ لبی
سامنے سمندر ہے
پھر بھی میں پیاسی ہوں
ہر روز ٹوٹ ٹوٹ کر
ساون برستا ہے
پھر بھی میں
سوکھی ہوئی بنجر زمیں ہوں
وہ لڑکی
جو تمہاری ہمسفر ہے
جسے میں نے کبھی
دیکھا نہیں
جسے میں نے کبھی جانا نہیں ہے
اس انجان لڑکی کے لیے
مُدتوں بعد مِلا ہے تُو
اور
ایک بار پھر احساس کی لویں جاگ اُٹھی ہیں
تُو اب بھی میرا ہے
صرف میرا
تیری آنکھوں میں میرا ہی عکس ہے
میرے آنگن میں
میرے آنگن میں
پہلی خوشی
بن کر تم آئی ہو
جیسے تپتے ہوئے صحرا میں
بارش کی بوندیں گرتی ہوں
تم نے مجھے کتنا بلند مرتبہ دیا ہے