ہم نے اس شہر میں جینے کا ہنر ضائع کیا
منزلیں ایسی ملی ہیں کہ سفر ضائع کیا
شعر بے ربطی افکار سے بوجھل ٹھہرے
ناز تھا جس پہ وہ اندازِ نظر ضائع کیا
تختۂ گل میں لہو رنگ ہے کانٹوں کی بہار
جانے کیا سوچ کے یہ خون جگر ضائع کیا
ہم نے اس شہر میں جینے کا ہنر ضائع کیا
منزلیں ایسی ملی ہیں کہ سفر ضائع کیا
شعر بے ربطی افکار سے بوجھل ٹھہرے
ناز تھا جس پہ وہ اندازِ نظر ضائع کیا
تختۂ گل میں لہو رنگ ہے کانٹوں کی بہار
جانے کیا سوچ کے یہ خون جگر ضائع کیا
بے اثر ٹھہری مسیحا کی دعا میرے بعد
زخم کو باقی نہیں کوئی گلہ میرے بعد
میں ہی آیا ہوں سر دشت تمنائے وصال
ہے لہو رنگ ہر اک گل کی قبا میرے بعد
جانے کیوں ضائع ہوئی دیدۂ تر کی شبنم
جانے کیوں بند ہوئے چاکِ قبا میرے بعد
ایسی تاریکی ہے کہ نام بُجھے جاتے ہیں
شام ہی سے یہ در و بام بجھے جاتے ہیں
روشنی داغ جگر میں نہیں اب باقی کوئی
ہم نے جو پائے تھے انعام بجھے جاتے ہی
نہ کرن کوئی اُمیدوں کی، نہ دن باقی ہے
دل نے پھیلائے تھے جو دام بجھے جاتے ہیں
نام آوروں کے شہر میں گُمنام گُھومنا
اپنا تو اک شعار ہے ناکام گھومنا
ہاتھوں میں خالی جام لیے میکدے کے پاس
معمول بن گیا ہے سرِ شام گھومنا
دامن میں سنگ ہائے ملامت جمع کیے
شانوں پہ ڈالے پوششِ الزام گھومنا