Showing posts with label شاہد رضوی. Show all posts
Showing posts with label شاہد رضوی. Show all posts

Friday, 9 January 2026

ہم نے اس شہر میں جینے کا ہنر ضائع کیا

 ہم نے اس شہر میں جینے کا ہنر ضائع کیا

منزلیں ایسی ملی ہیں کہ سفر ضائع کیا

شعر بے ربطی افکار سے بوجھل ٹھہرے

ناز تھا جس پہ وہ اندازِ نظر ضائع کیا

تختۂ گل میں لہو رنگ ہے کانٹوں کی بہار

جانے کیا سوچ کے یہ خون جگر ضائع کیا

Tuesday, 10 June 2025

بے اثر ٹھہری مسیحا کی دعا میرے بعد

 بے اثر ٹھہری مسیحا کی دعا میرے بعد

زخم کو باقی نہیں کوئی گلہ میرے بعد

میں ہی آیا ہوں سر دشت تمنائے وصال

ہے لہو رنگ ہر اک گل کی قبا میرے بعد

جانے کیوں ضائع ہوئی دیدۂ تر کی شبنم

جانے کیوں بند ہوئے چاکِ قبا میرے بعد

Saturday, 14 December 2024

ایسی تاریکی ہے کہ نام بجھے جاتے ہیں

 ایسی تاریکی ہے کہ نام بُجھے جاتے ہیں

شام ہی سے یہ در و بام بجھے جاتے ہیں

روشنی داغ جگر میں نہیں اب باقی کوئی

ہم نے جو پائے تھے انعام بجھے جاتے ہی

نہ کرن کوئی اُمیدوں کی، نہ دن باقی ہے

دل نے پھیلائے تھے جو دام بجھے جاتے ہیں

Sunday, 1 December 2024

معمول بن گیا ہے سر شام گھومنا

 نام آوروں کے شہر میں گُمنام گُھومنا

اپنا تو اک شعار ہے ناکام گھومنا

ہاتھوں میں خالی جام لیے میکدے کے پاس

معمول بن گیا ہے سرِ شام گھومنا

دامن میں سنگ ہائے ملامت جمع کیے

شانوں پہ ڈالے پوششِ الزام گھومنا