Showing posts with label عقیل چغتائی. Show all posts
Showing posts with label عقیل چغتائی. Show all posts

Monday, 7 August 2023

چھوڑ جاتے ہیں مرے یار مجھے غاروں میں

 چھوڑ جاتے ہیں مِرے یار مجھے غاروں میں

میری تنہائی کھلا کرتی ہے تہواروں میں

حسن بڑھتا ہے اگر زخم سلیقے سے لگیں

کیسا دلکش نظر آتا ہے فلک تاروں میں

تجھ کو معلوم نہیں لذتِ لمسِ اول

تُو بہت بعد میں آیا ہے طرحداروں میں

Tuesday, 6 December 2022

نہیں دکھیں گے جو ہر دم دکھائی دیتے ہیں

 نہیں دکھیں گے جو ہر دم دکھائی دیتے ہیں

انہیں بتاؤ ابھی ہم دکھائی دیتے ہیں

تم اہلِ عشق کی گنتی شروع مت کرنا

یہ پہلے پہلے بڑے کم دکھائی دیتے ہیں

ہمارا بجھنا تو طے تھا تمہارے بعد مگر

چراغ کس لیے مدھم دکھائی دیتے ہیں

Wednesday, 30 November 2022

ایک دوجے کے قریں بیٹھ کے رو لیتے ہیں

 ایک دوجے کے قریں بیٹھ کے رو لیتے ہیں

جہاں کہتا ہے وہیں بیٹھ کے رو لیتے ہیں

میں بہت جلد زمانے سے بچھڑ جاؤں گا

آئیے مجھ کو کہیں بیٹھ کے رو لیتے ہیں

آج کا رونا کبھی کل پہ نہیں ٹالا ہے

جہاں کا غم ہو وہیں بیٹھ کے رو لیتے ہیں

Tuesday, 29 November 2022

طناب خیمۂ جاں چشم خواب کھینچتے ہیں

 طنابِ خیمۂ جاں چشمِ خواب کھینچتے ہیں

جو جا چکے ہیں مِرے دستیاب کھینچتے ہیں

مِرے وجود کو جونکیں لگا تسلی کی

یہ وسوسے تو رگوں سے شباب کھینچتے ہیں

انہیں اداسی کی جادو گری کا علم نہیں

یہ کم نظر ہیں تِرا سدِ باب کھینچتے ہیں

Thursday, 10 February 2022

اوڑھ لیتا ہے کوئی تیرگی شب سے پہلے

 اوڑھ لیتا ہے کوئی تیرگی شب سے  پہلے

رونما ہوتے ہیں اثرات سبب سے پہلے

سب سے اونچا تھا زمانے میں تخیل میرا

حادثے مجھ پہ گرا کرتے تھے سب سے پہلے

ایک دوجے سے نمو پاتی ہیں ساری چیزیں

پیاس کا نام کہاں ہوتا تھا لب سے پہلے

Saturday, 18 December 2021

اپنے پیروں پہ کسی طور کھڑے ہوتے نہیں

اپنے پیروں پہ کسی طور کھڑے ہوتے نہیں 

بوڑھے ہو جاتے ہیں ہم لوگ بڑے ہوتے نہیں 

صبر و خاموشی کی زنجیر جکڑ لیتی ہے 

اب کلائی میں بغاوت کے کڑے ہوتے نہیں 

حلقۂ عشق میں سب چاک دِلاں ملتے ہیں 

اس قبیلے میں کوئی خاص دھڑے ہوتے نہیں