چھوڑ جاتے ہیں مِرے یار مجھے غاروں میں
میری تنہائی کھلا کرتی ہے تہواروں میں
حسن بڑھتا ہے اگر زخم سلیقے سے لگیں
کیسا دلکش نظر آتا ہے فلک تاروں میں
تجھ کو معلوم نہیں لذتِ لمسِ اول
تُو بہت بعد میں آیا ہے طرحداروں میں
چھوڑ جاتے ہیں مِرے یار مجھے غاروں میں
میری تنہائی کھلا کرتی ہے تہواروں میں
حسن بڑھتا ہے اگر زخم سلیقے سے لگیں
کیسا دلکش نظر آتا ہے فلک تاروں میں
تجھ کو معلوم نہیں لذتِ لمسِ اول
تُو بہت بعد میں آیا ہے طرحداروں میں
نہیں دکھیں گے جو ہر دم دکھائی دیتے ہیں
انہیں بتاؤ ابھی ہم دکھائی دیتے ہیں
تم اہلِ عشق کی گنتی شروع مت کرنا
یہ پہلے پہلے بڑے کم دکھائی دیتے ہیں
ہمارا بجھنا تو طے تھا تمہارے بعد مگر
چراغ کس لیے مدھم دکھائی دیتے ہیں
ایک دوجے کے قریں بیٹھ کے رو لیتے ہیں
جہاں کہتا ہے وہیں بیٹھ کے رو لیتے ہیں
میں بہت جلد زمانے سے بچھڑ جاؤں گا
آئیے مجھ کو کہیں بیٹھ کے رو لیتے ہیں
آج کا رونا کبھی کل پہ نہیں ٹالا ہے
جہاں کا غم ہو وہیں بیٹھ کے رو لیتے ہیں
طنابِ خیمۂ جاں چشمِ خواب کھینچتے ہیں
جو جا چکے ہیں مِرے دستیاب کھینچتے ہیں
مِرے وجود کو جونکیں لگا تسلی کی
یہ وسوسے تو رگوں سے شباب کھینچتے ہیں
انہیں اداسی کی جادو گری کا علم نہیں
یہ کم نظر ہیں تِرا سدِ باب کھینچتے ہیں
اوڑھ لیتا ہے کوئی تیرگی شب سے پہلے
رونما ہوتے ہیں اثرات سبب سے پہلے
سب سے اونچا تھا زمانے میں تخیل میرا
حادثے مجھ پہ گرا کرتے تھے سب سے پہلے
ایک دوجے سے نمو پاتی ہیں ساری چیزیں
پیاس کا نام کہاں ہوتا تھا لب سے پہلے
اپنے پیروں پہ کسی طور کھڑے ہوتے نہیں
بوڑھے ہو جاتے ہیں ہم لوگ بڑے ہوتے نہیں
صبر و خاموشی کی زنجیر جکڑ لیتی ہے
اب کلائی میں بغاوت کے کڑے ہوتے نہیں
حلقۂ عشق میں سب چاک دِلاں ملتے ہیں
اس قبیلے میں کوئی خاص دھڑے ہوتے نہیں