Thursday, 10 February 2022

اوڑھ لیتا ہے کوئی تیرگی شب سے پہلے

 اوڑھ لیتا ہے کوئی تیرگی شب سے  پہلے

رونما ہوتے ہیں اثرات سبب سے پہلے

سب سے اونچا تھا زمانے میں تخیل میرا

حادثے مجھ پہ گرا کرتے تھے سب سے پہلے

ایک دوجے سے نمو پاتی ہیں ساری چیزیں

پیاس کا نام کہاں ہوتا تھا لب سے پہلے

وہ، جو دن رات کی ترتیب لگاتا ہے ابھی

جانے کیا کرتا تھا اس کارِ عجب سے پہلے

شعر نے حسن کی ترویج کا سامان کیا

رائگاں جاتی تھی ہر چیز ادب سے پہلے

صبح کا بھولا ہوا آ تو گیا ہے واپس

مسئلہ یہ ہے کہ آیا نہیں شب سے پہلے

ہم کہاں عشق کی معراج کو جا پائیں گے

وہ ہمیں چھوڑنے والا ہے رجب سے پہلے

اس طرح دنیا کی ترتیب الٹ سکتی ہے

کیوں میسر ہوئے جاتے ہو طلب سے پہلے

آج کچھ اور ہی مقصد ہے چراغوں کا عقیل

روشنی اتنی کہاں ہوتی تھی اب سے پہلے


عقیل عباس چغتائی

No comments:

Post a Comment