وصف سورج ہے روشنی کیا ہے
تُو اگر ہے تو زندگی کیا ہے
خود سے تیری ہی گفتگو ہے میاں
ذکر تیرا ہے شاعری کیا ہے
کون جانے کہ یہ مِری دنیا
میرے بارے میں سوچتی کیا ہے
تیرا آنا ہے، اور جانا ہے
گفتگو کیا ہے، خامشی کیا ہے
خواب میں بھی اسے نہ چُھو پائے
ہم سے پوچھو کہ بے بسی کیا ہے
اس کے لہجے سے سُر نکلتے ہیں
ساز کیا ہے، یہ بانسری کیا ہے
صبا عزیز
No comments:
Post a Comment