کرو گے جان کے کیا حالِ دل، اداسی ہے
مِرے نصیب میں اک مستقل اداسی ہے
وہ اوڑھے پھرتی ہے اک شال اداسیوں سے بھری
وہ آنکھ، وہ چہرہ، وہ گیسو، وہ تِل اداسی ہے
بس ایک پل کے لیے دھڑکنوں سے تال ملا
بس ایک پل کے لیے آ کے مل، اداسی ہے
کرو گے جان کے کیا حالِ دل، اداسی ہے
مِرے نصیب میں اک مستقل اداسی ہے
وہ اوڑھے پھرتی ہے اک شال اداسیوں سے بھری
وہ آنکھ، وہ چہرہ، وہ گیسو، وہ تِل اداسی ہے
بس ایک پل کے لیے دھڑکنوں سے تال ملا
بس ایک پل کے لیے آ کے مل، اداسی ہے
سرشت تیری جفا ہے وفا مزاج مِرا
زمانے تیری روش سے جدا مزاج مرا
فراقِ یار کو الزام دوں کہ دنیا کو
کہ تلخ ہو گیا حد سے سوا مزاج مرا
سفر کا لطف رہا یوں کہ ہمرہی کے لیے
ملا وہ شخص کہ جس سے ملا مزاج مرا
دل میں یادوں کا اک سلسلہ رہ گیا
چل دئیے لوگ میں دیکھتا رہ گیا
دل میں جو بات تھی ان کہی رہ گئی
حشر دل میں بپا کا بپا رہ گیا
خواب تعبیر سے ناشناسا رہے
جو بھی نغمہ تھا وہ بے صدا رہ گیا
تاروں کی طرف جاتی ہے یہ راہ، چلیں کیا؟
تاروں کے جلو میں ہے وہیں ماہ، چلیں کیا
دھرنا ہے قدم چاند پہ، جانا ہے فلک تک
سنتا ہوں تو اس رہ سے ہے آگاہ، چلیں کیا
جانچیں گے ذرا وسعت افلاک بھی اک دن
ڈھونڈیں گے سمندر کی ذرا تھاہ، چلیں کیا
مصور
نقش گر
شاعر
کہانی کار
سب نے اپنے فن پاروں میں
اس کو ڈھال کر دیکھا
یونہی بے ربط سے فقرے تھے اور باتیں سراسیمہ
نجانے کس لیے کل شب تھیں وہ آنکھیں سراسیمہ
نئی اک کربلا ہر دن بپا ہوتی ہے بستی میں
دعائیں خون آلودہ ہیں، اور آہیں سراسیمہ
وہ دیکھو اس شجر کا حال بھی کچھ مجھ سے ملتا ہے
کہ پتے زرد، گُل افسُردہ ہیں شاخیں سراسیمہ
سچ ہے کہ میرے حق میں گواہی نہیں کوئی
اس شہر بے اماں میں بچا ہی نہیں کوئی
کیا وقتِ قتل آخری خواہش کا پوچھنا
ارماں ہمارے دل میں رہا ہی نہیں کوئی
اس تیرگی میں راہ جو پائیں تو کس طرح
ہاتھوں میں رہبروں کے دیا ہی نہیں کوئی
مِری جاں عجیب یہ مخمصہ ہے غُبار میں
تو وہی ہے یا کوئی واہمہ ہے غبار میں؟
کوئی آنکھ ہے مجھے کھوجتی ہے جو ہر گھڑی
کوئی شخص ہے، مجھے دیکھتا ہے غبار میں
کسی خوش جمال کو چھُو کے آئی ہوائے دشت
کوئی پُر خُمار سا ذائقہ ہے غبار میں