Showing posts with label عارف فیضی. Show all posts
Showing posts with label عارف فیضی. Show all posts

Tuesday, 1 November 2022

کرو گے جان کے کیا حال دل اداسی ہے

 کرو گے جان کے کیا حالِ دل، اداسی ہے

مِرے نصیب میں اک مستقل اداسی ہے

وہ اوڑھے پھرتی ہے اک شال اداسیوں سے بھری

وہ آنکھ، وہ چہرہ، وہ گیسو، وہ تِل اداسی ہے

بس ایک پل کے لیے دھڑکنوں سے تال ملا

بس ایک پل کے لیے آ کے مل، اداسی ہے

Saturday, 19 June 2021

سرشت تیری جفا ہے وفا مزاج مرا

 سرشت تیری جفا ہے وفا مزاج مِرا

زمانے تیری روش سے جدا مزاج مرا

فراقِ یار کو الزام دوں کہ دنیا کو

کہ تلخ ہو گیا حد سے سوا مزاج مرا

سفر کا لطف رہا یوں کہ ہمرہی کے لیے

ملا وہ شخص کہ جس سے ملا مزاج مرا

Friday, 18 June 2021

دل میں یادوں کا اک سلسلہ رہ گیا

 دل میں یادوں کا اک سلسلہ رہ گیا

چل دئیے لوگ میں دیکھتا رہ گیا

دل میں جو بات تھی ان کہی رہ گئی

حشر دل میں بپا کا بپا رہ گیا 

خواب تعبیر سے ناشناسا رہے

جو بھی نغمہ تھا وہ بے صدا رہ گیا

Wednesday, 16 June 2021

تاروں کی طرف جاتی ہے یہ راہ چلیں کیا

 تاروں کی طرف جاتی ہے یہ راہ، چلیں کیا؟

تاروں کے جلو میں ہے وہیں ماہ، چلیں کیا

دھرنا ہے قدم چاند پہ، جانا ہے فلک تک

سنتا ہوں تو اس رہ سے ہے آگاہ، چلیں کیا

جانچیں گے ذرا وسعت افلاک بھی اک دن

ڈھونڈیں گے سمندر کی ذرا تھاہ، چلیں کیا

مصور نقش گر شاعر کہانی کار سب نے اپنے فن پاروں میں

 مصور 

نقش گر 

شاعر 

کہانی کار 

سب نے اپنے فن پاروں میں 

اس کو ڈھال کر دیکھا

Tuesday, 15 June 2021

یونہی بے ربط سے فقرے تھے اور باتیں سراسیمہ

 یونہی بے ربط سے فقرے تھے اور باتیں سراسیمہ

نجانے کس لیے کل شب تھیں وہ آنکھیں سراسیمہ

نئی اک کربلا ہر دن بپا ہوتی ہے بستی میں

دعائیں خون آلودہ ہیں، اور آہیں سراسیمہ

وہ دیکھو اس شجر کا حال بھی کچھ مجھ سے ملتا ہے

کہ پتے زرد، گُل افسُردہ ہیں شاخیں سراسیمہ

Monday, 14 June 2021

سچ ہے کہ میرے حق میں گواہی نہیں کوئی

 سچ ہے کہ میرے حق میں گواہی نہیں کوئی

اس شہر بے اماں میں بچا ہی نہیں کوئی

کیا وقتِ قتل آخری خواہش کا پوچھنا

ارماں ہمارے دل میں رہا ہی نہیں کوئی

اس تیرگی میں راہ جو پائیں تو کس طرح

ہاتھوں میں رہبروں کے دیا ہی نہیں کوئی

مری جاں عجیب یہ مخمصہ ہے غبار میں

 مِری جاں عجیب یہ مخمصہ ہے غُبار میں

تو وہی ہے یا کوئی واہمہ ہے غبار میں؟

کوئی آنکھ ہے مجھے کھوجتی ہے جو ہر گھڑی

کوئی شخص ہے، مجھے دیکھتا ہے غبار میں

کسی خوش جمال کو چھُو کے آئی ہوائے دشت

کوئی پُر خُمار سا ذائقہ ہے غبار میں