Saturday, 19 June 2021

سرشت تیری جفا ہے وفا مزاج مرا

 سرشت تیری جفا ہے وفا مزاج مِرا

زمانے تیری روش سے جدا مزاج مرا

فراقِ یار کو الزام دوں کہ دنیا کو

کہ تلخ ہو گیا حد سے سوا مزاج مرا

سفر کا لطف رہا یوں کہ ہمرہی کے لیے

ملا وہ شخص کہ جس سے ملا مزاج مرا

قصور میرا ہے یا تیری کم نگاہی کا

جو اتنی دیر سے تجھ پر کھُلا مزاج مرا

کسی نے پوچھا جو عارف سے بے رخی کا سبب

تو اس نے ہنس کے بس اتنا کہا؛ مزاج مرا


عارف نسیم فیضی

No comments:

Post a Comment