مجھے تو حیرت ابھی تلک اس حسین پر ہے
کہ جس کے ہونٹوں کا لمس میری جبین پر ہے
کسے خبر تھی کہ آسمانوں میں جا بسے گا
وہ شخص جس کی ابھی ضرورت زمین پر ہے
اسے اجازت ہے مجھ کو کافر کہے بھلے سے
جو آدمی اپنے باپ دادا کے دین پر ہے
ہمیں یہ چاہت کہ رقص طبلے کی تھاپ پر ہو
پر اس حسینہ کا دھیان سارا یقین پر ہے
اسد تسکین
No comments:
Post a Comment