ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
کام آئی نہ دل لگی میری
بھاڑ میں جائے شاعری میری
یار میرا سخن شناس نہیں
عمران سرگانی
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
کام آئی نہ دل لگی میری
بھاڑ میں جائے شاعری میری
یار میرا سخن شناس نہیں
عمران سرگانی
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
تِرا قبضہ ہے آب و دانے پہ حاکم
تِرے جام گرچہ لبالب بھرے ہیں
لبِ دشت لیکن مِرے لب رکھے ہیں
عمران سرگانی
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
جسم میں جو پیوست ہیں تیر عزیز ہیں مجھ کو جانِ جاں
اور پیاری ہے مجھے جو میرے خوں سے رنگی ہے تلوار
تیر قلم ہیں میرے اور دیوار پہ ٹنگی ہے تلوار
عمران سرگانی
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
خودکشی ہرگز نہیں تھی قتل تھا مزدور کا
کیا امیروں کے پکڑ کر پاؤں پیسے مانگتا
ہاتھ پاؤں تھے سلامت، بھیک کیسے مانگتا
عمران سرگانی
پہلے کبھی نہیں ہوا اس بار ہو گیا
پہلی نظر میں اس سے مجھے پیار ہو گیا
دن بھر ہمارا وقت کٹے گا خوشی خوشی
قسمت سے آج آپ کا دیدار ہو گیا
دنیا پسند آ ہی گئی آخرش اسے
مانوس تھا جو مجھ سے وہ بیزار ہو گیا
تُو سوچتا ہے یہ لوگ رانجھے کو ہِیر دیں گے
یہ بھیڑیے نوچ کر بدن اس کا چِیر دیں گے
تمہارا دُشمن نشانہ باندھے گا جب بھی تم پر
یہ دوست جا کر کمان میں اس کی تِیر دیں گے
تِری بصارت سے رنگ چھینیں گے زندگی کے
صِلے میں رنگین خواب، آنکھوں کو نِیر دیں گے
تیز پانی کے بہاؤ سا رہا
یوں تِری جانب کھچاؤ سا رہا
تیرا چہرہ ڈھونڈنا ہر شعر میں
یوں غزل سے اک لگاؤ سا رہا
مجھ سے بچھڑا جب کوئی تیرا خیال
میری سوچوں میں تناؤ سا رہا
غموں کا یہ بوجھ لاد کر زندگی کی گاڑی کو کھینچ لوں گا
کبھی جو رونا بھی آ گیا تو میں اپنے ہونٹوں کو بھینچ لوں گا
غزل لکھوں گا، امر کروں گا، میں اتنی ساری محبتوں کو
اکیلا چاہت کے بیل بوٹے لہو سے اپنے میں سینچ لوں گا
خدا نے چاہا وہ لوٹ آیا اگر دوبارہ،۔ تو یوں کروں گا
اسےمیں جانےنہ دوں گا پھر سے، لگا کےسینےسےبھینچ لوں گا
میرا ہر حرف پڑھے، اور اسے یکسر سمجھے
کوئی تو ہو جو مجھے مجھ سے بھی بہتر سمجھے
جی نہ پاؤں گا میں دستار بِنا اک پَل بھی
میرا دشمن مِری پگڑی کو مِرا سر سمجھے
اکثریت تھی جہالت کے اندھیروں میں غرق
میں سمجھتا ہوں کہ قرآں کو بہتّر سمجھے
یوں بسی خوشبو ہماری، خوں سے تر دیوار میں
تتلیاں بھنورے بنا بیٹھے ہیں گھر دیوار میں
اپنے ہاتھوں سے ہمیں ڈھانا پڑا اپنا مکان
سانپ رہتے تھے بُری یادوں کے ہر دیوار میں
رہ بنانے کے لیے ہر آڑ میں کھودی سُرنگ
عمر بھر کرتے رہے ہیں ہم، سفر دیوار میں