Showing posts with label عمران سرگانی. Show all posts
Showing posts with label عمران سرگانی. Show all posts

Thursday, 13 October 2022

کام آئی نہ دل لگی میری

 ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے


کام آئی نہ دل لگی میری

بھاڑ میں جائے شاعری میری

یار میرا سخن شناس نہیں


عمران سرگانی

Wednesday, 12 October 2022

ترا قبضہ ہے آب و دانے پہ حاکم

 ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے


تِرا قبضہ ہے آب و دانے پہ حاکم

تِرے جام گرچہ لبالب بھرے ہیں

لبِ دشت لیکن مِرے لب رکھے ہیں


عمران سرگانی

Monday, 10 October 2022

تیر قلم ہیں میرے اور دیوار پہ ٹنگی ہے تلوار

ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے


جسم میں جو پیوست ہیں تیر عزیز ہیں مجھ کو جانِ جاں

اور پیاری ہے مجھے جو میرے خوں سے رنگی ہے تلوار

تیر قلم ہیں میرے اور دیوار پہ ٹنگی ہے تلوار


عمران سرگانی

Thursday, 6 October 2022

خودکشی ہرگز نہیں تھی قتل تھا مزدور کا

ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے


خودکشی ہرگز نہیں تھی قتل تھا مزدور کا

کیا امیروں کے پکڑ کر پاؤں پیسے مانگتا

ہاتھ پاؤں تھے سلامت، بھیک کیسے مانگتا


عمران سرگانی

Tuesday, 15 February 2022

پہلے کبھی نہیں ہوا اس بار ہو گیا

پہلے کبھی نہیں ہوا اس بار ہو گیا

پہلی نظر میں اس سے مجھے پیار ہو گیا

دن بھر ہمارا وقت کٹے گا خوشی خوشی

قسمت سے آج آپ کا دیدار ہو گیا

دنیا پسند آ ہی گئی آخرش اسے

مانوس تھا جو مجھ سے وہ بیزار ہو گیا

Wednesday, 31 March 2021

تو سوچتا ہے یہ لوگ رانجھے کو ہیر دیں گے

 تُو سوچتا ہے یہ لوگ رانجھے کو ہِیر دیں گے

یہ بھیڑیے نوچ کر بدن اس کا چِیر دیں گے

تمہارا دُشمن نشانہ باندھے گا جب بھی تم پر

یہ دوست جا کر کمان میں اس کی تِیر دیں گے

تِری بصارت سے رنگ چھینیں گے زندگی کے

صِلے میں رنگین خواب، آنکھوں کو نِیر دیں گے

Tuesday, 23 March 2021

تیز پانی کے بہاؤ سا رہا

 تیز پانی کے بہاؤ سا رہا

یوں تِری جانب کھچاؤ سا رہا

تیرا چہرہ ڈھونڈنا ہر شعر میں

یوں غزل سے اک لگاؤ سا رہا

مجھ سے بچھڑا جب کوئی تیرا خیال

میری سوچوں میں تناؤ سا رہا

Monday, 22 March 2021

غموں کا یہ بوجھ لاد کر زندگی کی گاڑی کو کھینچ لوں گا

 غموں کا یہ بوجھ لاد کر زندگی کی گاڑی کو کھینچ لوں گا

کبھی جو رونا بھی آ گیا تو میں اپنے ہونٹوں کو بھینچ لوں گا

غزل لکھوں گا، امر کروں گا، میں اتنی ساری محبتوں کو

اکیلا چاہت کے بیل بوٹے لہو سے اپنے میں سینچ لوں گا

خدا نے چاہا وہ لوٹ آیا اگر دوبارہ،۔ تو یوں کروں گا

اسےمیں جانےنہ دوں گا پھر سے، لگا کےسینےسےبھینچ لوں گا

میرا ہر حرف پڑھے اور اسے یکسر سمجھے

 میرا ہر حرف پڑھے، اور اسے یکسر سمجھے

کوئی تو ہو جو مجھے مجھ سے بھی بہتر سمجھے

جی نہ پاؤں گا میں دستار بِنا اک پَل بھی

میرا دشمن مِری پگڑی کو مِرا سر سمجھے

اکثریت تھی جہالت کے اندھیروں میں غرق

میں سمجھتا ہوں کہ قرآں کو بہتّر سمجھے

Sunday, 21 March 2021

یوں بسی خوشبو ہماری خوں سے تر دیوار میں

 یوں بسی خوشبو ہماری، خوں سے تر دیوار میں

تتلیاں بھنورے بنا بیٹھے ہیں گھر دیوار میں

اپنے ہاتھوں سے ہمیں ڈھانا پڑا اپنا مکان

سانپ رہتے تھے بُری یادوں کے ہر دیوار میں

رہ بنانے کے لیے ہر آڑ میں کھودی سُرنگ

عمر بھر کرتے رہے ہیں ہم، سفر دیوار میں