Sunday, 21 March 2021

یوں بسی خوشبو ہماری خوں سے تر دیوار میں

 یوں بسی خوشبو ہماری، خوں سے تر دیوار میں

تتلیاں بھنورے بنا بیٹھے ہیں گھر دیوار میں

اپنے ہاتھوں سے ہمیں ڈھانا پڑا اپنا مکان

سانپ رہتے تھے بُری یادوں کے ہر دیوار میں

رہ بنانے کے لیے ہر آڑ میں کھودی سُرنگ

عمر بھر کرتے رہے ہیں ہم، سفر دیوار میں

زندگی کھو دی اسی میں،عمر بھر کھودی سُرنگ

رہ بنانے کو کِیا ہم نے سفر دیوار میں

اس سے بہتر کاٹیے کاریگروں کے ہاتھ آپ

کیوں نہ چُنوا دیجئے اہلِ ہنر دیوار میں

مر رہی ہے قوم بھوک اور پیاس سے عمران آج

تم چھُپاتے پھر رہے ہو مال و زر دیوار میں


عمران سرگانی

No comments:

Post a Comment