Showing posts with label فرخ زہرا گیلانی. Show all posts
Showing posts with label فرخ زہرا گیلانی. Show all posts

Wednesday, 9 February 2022

تیری ہستی ہے زمانے کے لیے مشعل راہ

 عورت


تیری ہستی ہے زمانے کے لیے مشعلِ راہ

تیرے قدموں کے تلے جنتِ فردوس بھی ہے

زندگی تیرے لیے عظمتِ معراج بھی ہے

آنکھ میں نُور تو رنگوں میں حیا باقی ہے

تِیرہ ذہنوں کے لیے تیری جِلا باقی ہے

Monday, 12 July 2021

کیا جانے یہ چلتی گولی

 کیا جانے یہ چلتی گولی

خالی کر گئی کس کی جھولی 

نگر نگر بارود کا دھواں 

بستی بستی خون کی ہولی 

پھول سمجھ کر ہر پتھر کو

میں نے بھر لی اپنی جھولی 

راس آئی ہمیں نہ دلداری

 راس آئی ہمیں نہ دلداری 

زندگی ہو گئی ہے دُکھیاری 

ہار بیٹھی ہوں پیار کی بازی 

میں ابھی حوصلہ نہیں ہاری 

گو ستارہ سحر کا تنہا ہے 

پھر بھی دیتا ہے اذنِ بیداری 

Friday, 9 July 2021

ہوش و خرد گنوا کے ترے انتظار میں

 ہوش و خِرد گنوا کے تِرے انتظار میں

گم کر دیا ہے خود کو غموں کے غبار میں

میں اس کے ساتھ ساتھ بہت دور تک گئی

اب اس کو چھوڑنا بھی نہیں اختیار میں

رنگِ حنا ہے آج بھی ممنون اس لیے

میرے لہو کا رنگ تھا جشنِ بہار میں

دیار فکر و ہنر کو نکھارنے والا

 دیارِ فکر و ہنر کو نِکھارنے والا

کہاں گیا مِری دنیا سنوارنے والا

پھر اس کے بعد کبھی لوٹ کر نہیں آیا

وفا کے رنگ نظر میں اُتارنے والا

مجھے یقیں ہے کہ خُوشبو کا ہمسفر ہو گا

گُلاب حُسنِ محبت کے وارنے والا

چاروں جانب موسم گل ہے پاگل یادیں تنہائی

 چاروں جانب موسمِ گُل ہے، پاگل یادیں، تنہائی

من ساگر میں جاگ اٹھی ہیں گزری راتیں تنہائی

میں سوچوں کی جھیل کنارے آس جزیرے دیکھ رہی ہوں

سرکش موجیں، حرف گھروندے، میری غزلیں، تنہائی

تُو اُترے، زخمی سورج کی کرنوں کو تصویر کرے

میں لفظوں میں باندھ رہی ہوں ساری شامیں، تنہائی