عورت
تیری ہستی ہے زمانے کے لیے مشعلِ راہ
تیرے قدموں کے تلے جنتِ فردوس بھی ہے
زندگی تیرے لیے عظمتِ معراج بھی ہے
آنکھ میں نُور تو رنگوں میں حیا باقی ہے
تِیرہ ذہنوں کے لیے تیری جِلا باقی ہے
عورت
تیری ہستی ہے زمانے کے لیے مشعلِ راہ
تیرے قدموں کے تلے جنتِ فردوس بھی ہے
زندگی تیرے لیے عظمتِ معراج بھی ہے
آنکھ میں نُور تو رنگوں میں حیا باقی ہے
تِیرہ ذہنوں کے لیے تیری جِلا باقی ہے
کیا جانے یہ چلتی گولی
خالی کر گئی کس کی جھولی
نگر نگر بارود کا دھواں
بستی بستی خون کی ہولی
پھول سمجھ کر ہر پتھر کو
میں نے بھر لی اپنی جھولی
راس آئی ہمیں نہ دلداری
زندگی ہو گئی ہے دُکھیاری
ہار بیٹھی ہوں پیار کی بازی
میں ابھی حوصلہ نہیں ہاری
گو ستارہ سحر کا تنہا ہے
پھر بھی دیتا ہے اذنِ بیداری
ہوش و خِرد گنوا کے تِرے انتظار میں
گم کر دیا ہے خود کو غموں کے غبار میں
میں اس کے ساتھ ساتھ بہت دور تک گئی
اب اس کو چھوڑنا بھی نہیں اختیار میں
رنگِ حنا ہے آج بھی ممنون اس لیے
میرے لہو کا رنگ تھا جشنِ بہار میں
دیارِ فکر و ہنر کو نِکھارنے والا
کہاں گیا مِری دنیا سنوارنے والا
پھر اس کے بعد کبھی لوٹ کر نہیں آیا
وفا کے رنگ نظر میں اُتارنے والا
مجھے یقیں ہے کہ خُوشبو کا ہمسفر ہو گا
گُلاب حُسنِ محبت کے وارنے والا
چاروں جانب موسمِ گُل ہے، پاگل یادیں، تنہائی
من ساگر میں جاگ اٹھی ہیں گزری راتیں تنہائی
میں سوچوں کی جھیل کنارے آس جزیرے دیکھ رہی ہوں
سرکش موجیں، حرف گھروندے، میری غزلیں، تنہائی
تُو اُترے، زخمی سورج کی کرنوں کو تصویر کرے
میں لفظوں میں باندھ رہی ہوں ساری شامیں، تنہائی