راس آئی ہمیں نہ دلداری
زندگی ہو گئی ہے دُکھیاری
ہار بیٹھی ہوں پیار کی بازی
میں ابھی حوصلہ نہیں ہاری
گو ستارہ سحر کا تنہا ہے
پھر بھی دیتا ہے اذنِ بیداری
آنکھ برسی ہے یاد میں تیری
دل میں بھڑکی ہے کوئی چنگاری
کوئی جگنو تو جاگتا ہو گا
رات گُزری نہیں ابھی ساری
مائیں سہتی ہیں کس قدر دُکھڑے
بہنیں ہوتی ہیں کتنی دُکھیاری
اپنا جیون ہے اس طرح فرخ
زرد موسم میں جیسے پُھلواری
فرخ زہرا گیلانی
No comments:
Post a Comment