Showing posts with label عمران عاشر. Show all posts
Showing posts with label عمران عاشر. Show all posts

Thursday, 16 November 2023

عشق پتلی سکیڑ دیتا ہے

عشق پُتلی سکیڑ دیتا ہے

ہجر بخیے ادھیڑ دیتا ہے

ظلم کرتا ہے بھاگتا پانی

پیڑ جڑ سے اُکھیڑ دیتا ہے

عشق پتھر ہے جب بھی گرتا ہے

شیشۂ دل تریڑ دیتا ہے

Sunday, 10 April 2022

میں نے تمہارا اسم پڑھا دل پہ دم کیا

 میں نے تمہارا اسم پڑھا دل پہ دم کیا

کیا کیا درونِ ذات سے رستے نکل پڑے

جانے یہ عشق ہے یا محبت ہے روگ ہے

اکثر بغیر کام کے ہی گھر سے چل پڑے

وحشت زدہ ہیں لوگ پھٹکتے نہیں ادھر

جیسے ہماری ذات کے رستے میں تھل پڑے

Saturday, 20 November 2021

چوڑیاں توڑ لیں سہاگن نے اور پھر لاش ہی بیاہی گئی

 چوڑیاں توڑ لیں سہاگن نے

اور پھر لاش ہی بیاہی گئی

حشر میں خود کو بخشوانا تھا

ساتھ محراب کی سیاہی گئی

آپ سے تم جو کہہ رہے ہو مجھے

بات دل کی زباں پہ آ ہی گئی

Thursday, 11 November 2021

دم بدم ہم قدم سے ناچے ہیں

 دم بدم ہم قدم سے ناچے ہیں

دل کی دھڑکن میں غم سے ناچے ہیں

اس لیے ہارنے پہ بھی خوش ہیں

ہم تو اپنے ہی دم پہ ناچے ہیں

رقص آتا کہاں تھا آدم کو

یہ تو اس کے کرم سے ناچے ہیں

Wednesday, 10 November 2021

اس دل پہ رقم تھا تو مگر کاٹ چکا ہوں

 اس دل پہ رقم تھا تو، مگر کاٹ چکا ہوں

گویا کہ میں نشتر سے جگر کاٹ چکا ہوں

یہ چھاؤں مِری صحرا نوردی نہ نگل لے

میں اپنے ہی ہاتھوں سے شجر کاٹ چکا ہوں

تْو جتنے بھی نفرت کے چلے کاٹ، گرہیں باندھ

میں وردِ محبت سے اثر کاٹ چکا ہوں

Thursday, 4 November 2021

وقت کا زخم بھرتا جاتا ہے

 وقت کا زخم بھرتا جاتا ہے

تُو بھی دل سے اترتا جاتا ہے

تجھ سے بچھڑا تو ہو گیا پتھر

گو زمانہ گزرتا جاتا ہے

کانچ کا خواب میری آنکھوں میں

ٹوٹتا اور بکھرتا جاتا ہے

Wednesday, 27 October 2021

دل بھی دھڑکا نہیں ہے مدت سے

 دل بھی دھڑکا نہیں ہے مدت سے

یاد بھی آ رہے ہو شِدت سے

ہجر میں وصل کا تو زہر نہ گھول

میں ہوں بے زار ایسی بدعت سے

لب دہکتے ہوئے عقیق تِرے

جل نہ جائیں گلاب حِدت سے

Sunday, 24 October 2021

پختہ یقیں نے دشت کی اجڑی زمین سے

 پختہ یقیں نے دشت کی اجڑی زمین سے

کتنے اگائے پھول گلِ یاسمین سے

ملاں تجھے ہزارہا سجدوں میں نہ ملا

میں نے خدا کو پا لیا حقِ الیقین سے

کٹتا ہے کس طرح سے جگر کچھ نہ پوچھیۓ

ہیں تیز دھار لہجے بڑے دلنشین سے

Saturday, 23 October 2021

درمیاں پھر فصیل ہو گئی نا ہجر کی یہ دلیل ہو گئی نا

 درمیاں پھر فصیل ہو گئی نا

ہجر کی یہ دلیل ہو گئی نا

تجھ کو آوارگی تھا سمجھایا

ساتھ میرے ذلیل ہو گئی نا

بات تھی مختصر؛ محبت ہے

ہو گئی پھر طویل ہو گئی نا

Tuesday, 8 June 2021

عشق پتلی سکیڑ دیتا ہے

 عشق پُتلی سکیڑ دیتا ہے

ہجر بخیے ادھیڑ دیتا ہے

کیسا طوفان ظلم کرتا ہے

پیڑ جڑ سے اکھیڑ دیتا ہے

عشق پتھر ہے جب بھی گرتا ہے

دل کا شیشہ تریڑ دیتا ہے

Friday, 20 November 2020

رات میں کوئی ہجر کا مارا جاگے ہے

 رات میں کوئی ہجر کا مارا جاگے ہے

یا کوئی قسمت سے ہارا جاگے ہے

میں جاگوں اک درد جو مجھ کو لاحق ہے

جانے کیوں یہ را ت کا تا را جاگے ہے

پنچھی، جگنو، پھول بھی اس کو ڈھونڈیں ہیں

اس کی یاد میں دشت بھی سارا جاگے ہے