عشق پُتلی سکیڑ دیتا ہے
ہجر بخیے ادھیڑ دیتا ہے
ظلم کرتا ہے بھاگتا پانی
پیڑ جڑ سے اُکھیڑ دیتا ہے
عشق پتھر ہے جب بھی گرتا ہے
شیشۂ دل تریڑ دیتا ہے
عشق پُتلی سکیڑ دیتا ہے
ہجر بخیے ادھیڑ دیتا ہے
ظلم کرتا ہے بھاگتا پانی
پیڑ جڑ سے اُکھیڑ دیتا ہے
عشق پتھر ہے جب بھی گرتا ہے
شیشۂ دل تریڑ دیتا ہے
میں نے تمہارا اسم پڑھا دل پہ دم کیا
کیا کیا درونِ ذات سے رستے نکل پڑے
جانے یہ عشق ہے یا محبت ہے روگ ہے
اکثر بغیر کام کے ہی گھر سے چل پڑے
وحشت زدہ ہیں لوگ پھٹکتے نہیں ادھر
جیسے ہماری ذات کے رستے میں تھل پڑے
چوڑیاں توڑ لیں سہاگن نے
اور پھر لاش ہی بیاہی گئی
حشر میں خود کو بخشوانا تھا
ساتھ محراب کی سیاہی گئی
آپ سے تم جو کہہ رہے ہو مجھے
بات دل کی زباں پہ آ ہی گئی
دم بدم ہم قدم سے ناچے ہیں
دل کی دھڑکن میں غم سے ناچے ہیں
اس لیے ہارنے پہ بھی خوش ہیں
ہم تو اپنے ہی دم پہ ناچے ہیں
رقص آتا کہاں تھا آدم کو
یہ تو اس کے کرم سے ناچے ہیں
اس دل پہ رقم تھا تو، مگر کاٹ چکا ہوں
گویا کہ میں نشتر سے جگر کاٹ چکا ہوں
یہ چھاؤں مِری صحرا نوردی نہ نگل لے
میں اپنے ہی ہاتھوں سے شجر کاٹ چکا ہوں
تْو جتنے بھی نفرت کے چلے کاٹ، گرہیں باندھ
میں وردِ محبت سے اثر کاٹ چکا ہوں
وقت کا زخم بھرتا جاتا ہے
تُو بھی دل سے اترتا جاتا ہے
تجھ سے بچھڑا تو ہو گیا پتھر
گو زمانہ گزرتا جاتا ہے
کانچ کا خواب میری آنکھوں میں
ٹوٹتا اور بکھرتا جاتا ہے
دل بھی دھڑکا نہیں ہے مدت سے
یاد بھی آ رہے ہو شِدت سے
ہجر میں وصل کا تو زہر نہ گھول
میں ہوں بے زار ایسی بدعت سے
لب دہکتے ہوئے عقیق تِرے
جل نہ جائیں گلاب حِدت سے
پختہ یقیں نے دشت کی اجڑی زمین سے
کتنے اگائے پھول گلِ یاسمین سے
ملاں تجھے ہزارہا سجدوں میں نہ ملا
میں نے خدا کو پا لیا حقِ الیقین سے
کٹتا ہے کس طرح سے جگر کچھ نہ پوچھیۓ
ہیں تیز دھار لہجے بڑے دلنشین سے
درمیاں پھر فصیل ہو گئی نا
ہجر کی یہ دلیل ہو گئی نا
تجھ کو آوارگی تھا سمجھایا
ساتھ میرے ذلیل ہو گئی نا
بات تھی مختصر؛ محبت ہے
ہو گئی پھر طویل ہو گئی نا
عشق پُتلی سکیڑ دیتا ہے
ہجر بخیے ادھیڑ دیتا ہے
کیسا طوفان ظلم کرتا ہے
پیڑ جڑ سے اکھیڑ دیتا ہے
عشق پتھر ہے جب بھی گرتا ہے
دل کا شیشہ تریڑ دیتا ہے
رات میں کوئی ہجر کا مارا جاگے ہے
یا کوئی قسمت سے ہارا جاگے ہے
میں جاگوں اک درد جو مجھ کو لاحق ہے
جانے کیوں یہ را ت کا تا را جاگے ہے
پنچھی، جگنو، پھول بھی اس کو ڈھونڈیں ہیں
اس کی یاد میں دشت بھی سارا جاگے ہے