عشق پُتلی سکیڑ دیتا ہے
ہجر بخیے ادھیڑ دیتا ہے
کیسا طوفان ظلم کرتا ہے
پیڑ جڑ سے اکھیڑ دیتا ہے
عشق پتھر ہے جب بھی گرتا ہے
دل کا شیشہ تریڑ دیتا ہے
چوٹ لگتی ہے یار کو لیکن
دانت اپنے اکھیڑ دیتا ہے
کیا مسیحا کی ہے مسیحائی
بھرتے زخموں کو چھیڑ دیتا ہے
عمران عاشر
No comments:
Post a Comment