خوشبو کے بکھرنے میں کچھ دیر تو لگتی ہے
یہ بات سمجھنے میں کچھ دیر تو لگتی ہے
جس زخم میں شامل ہو اپنوں کی عنایت بھی
اس زخم کے بھرنے میں کچھ دیر تو لگتی ہے
گھر سارے نشیبی ہوں، دریا کے کنارے پر
پھر پانی اترنے میں کچھ دیر تو لگتی ہے
جب ابر گھنیرے ہوں ہر سمت اندھیرے ہوں
پھر چاند نکلنے میں کچھ دیر تو لگتی ہے
کب پہلی نظر دل میں بے تابیاں لاتی ہے
تصویر کے بننے میں کچھ دیر تو لگتی ہے
جب حسن بھی تازہ ہو اور پہلی محبت ہو
پھر ہاتھ پکڑنے میں کچھ دیر تو لگتی ہے
گلِ نوخیز اختر
No comments:
Post a Comment