Tuesday, 8 June 2021

خوشبو کے بکھرنے میں کچھ دیر تو لگتی ہے

 خوشبو کے بکھرنے میں کچھ دیر تو لگتی ہے

یہ بات سمجھنے میں کچھ دیر تو لگتی ہے

جس زخم میں شامل ہو اپنوں کی عنایت بھی 

اس زخم کے بھرنے میں کچھ دیر تو لگتی ہے

گھر سارے نشیبی ہوں، دریا کے کنارے پر

پھر پانی اترنے میں کچھ دیر تو لگتی ہے

جب ابر گھنیرے ہوں ہر سمت اندھیرے ہوں

پھر چاند نکلنے میں کچھ دیر تو لگتی ہے

کب پہلی نظر دل میں بے تابیاں لاتی ہے

تصویر کے بننے میں کچھ دیر تو لگتی ہے

جب حسن بھی تازہ ہو اور پہلی محبت ہو

پھر ہاتھ پکڑنے میں کچھ دیر تو لگتی ہے


گلِ نوخیز اختر

No comments:

Post a Comment