Tuesday, 8 June 2021

یوں زندگی کی ہم نے سیہ رات کاٹ دی

یوں زندگی کی ہم نے سِیہ رات کاٹ دی

بِن چھت کے گھر میں جیسے کہ برسات کاٹ دی

آتا ہو ملک و قوم کی عزت پہ جس سے حرف

ہم نے خدا گواہ! وہ ہر بات کاٹ دی

گزری جو ناگوار ہمارے ضمیر کو

مل بھی گئی تو ہم نے وہ سوغات کاٹ دی

بن جائے وجہ دشمنی جو دو گھروں کے بیچ

بچوں کی ہم نے ایسی ملاقات کاٹ دی

طوفاں میں بھی خدا کے حوالے رہی حیات

یوں ہنس کے ہم نے گردشِ آفات کاٹ دی

ترکِ تعلقات کا انجام سوچ کر

ہم نے تمام عمر تِرے ساتھ کاٹ دی

اہلِ غرض کی چلنے نہ دی کوئی ہم نے چال

مطلب پرست لوگوں کی ہر بات کاٹ دی

جن سے نہ کچھ ملا ہمیں رُسوائی کے سوا

ان دوستوں کی ہم نے ملاقات کاٹ دی

نیر کو لے چلی تھی جو شہرِ غرور میں

ہم نے وہ رہگزارِ خرافات کاٹ دی


نیر گنگوہی

سعید احمد قریشی

No comments:

Post a Comment