دل تو اک شخص کو نخچیر بنانے میں گیا
ساز دل نغمۂ دل گیر بنانے میں گیا
رات اک خواب جو دیکھا تو ہوا یہ معلوم
دن بھی اس خواب کی تصویر بنانے میں گیا
پرتوِ خانۂ موہوم غنیمت تھام مگر
وہ بھی اک نقشۂ تعمیر بنانے میں گیا
دل تو اک شخص کو نخچیر بنانے میں گیا
ساز دل نغمۂ دل گیر بنانے میں گیا
رات اک خواب جو دیکھا تو ہوا یہ معلوم
دن بھی اس خواب کی تصویر بنانے میں گیا
پرتوِ خانۂ موہوم غنیمت تھام مگر
وہ بھی اک نقشۂ تعمیر بنانے میں گیا
مختصر سی زندگی میں کتنی نادانی کرے
ان نظاروں کو کوئی دیکھے کہ حیرانی کرے
دھوپ میں ان آبگینوں کو لیے پھرتا ہوں میں
کوئی سایہ میرے خوابوں کی نگہبانی کرے
ایک میں ہوں اور دستک کتنے دروازوں پہ دوں
کتنی دہلیزوں پہ سجدہ ایک پیشانی کرے
پھر کسی خواب کی پلکوں پہ سواری آئی
خوش اُمیدی کو لیے بادِ بہاری آئی
پھول آئے ہیں نئی رُت کے، نئی شاخوں پر
موجۂ ماہِ دلآرام کی باری آئی
نامُرادانہ کہیں عمر بسر ہوتی ہے
شاد کامی کے لیے، یاد تمہاری آئی
جو ہم نے خواب دیکھے ہیں دولت اسی کی ہے
تنہائی کہہ رہی ہے؛ رفاقت اسی کی ہے
کب کوئی شہرِ شب کی حدیں پار کر سکا
یوں مفت جان کھونے کی عادت اسی کی ہے
کارِ جنوں میں اپنا کوئی دخل ہی نہیں
صحرا اسی کا، اور یہ وحشت اسی کی ہے
ابھی رسوائیوں کا اک بڑا بازار آئے گا
پھر اس کے بعد ہی وہ کوچۂ دلدار آئے گا
وطن کی ایک تصویر خیالی سب بناتے ہیں
خبر لیکن نہیں کیا اس میں کوئے یار آئے گا
گلِ شاخِ محبت پر لہو کا رنگ کھلتا ہے
کہ اب رنگِ حنا ذکرِ لب و رخسار آئے گا
ہمیں تو اب کے بھی آئی نہ راس تنہائی
تمہیں بتاؤ کہ ہے کس کے پاس تنہائی؟
اسے بھی اب کے بہت رنج نارسائی ہے
کھڑی ہے شہر کی سرحد کے پاس تنہائی
اسی لیے تو نہ صحرا میں ہے نہ بستی میں
کہ ہو نہ جائے کہیں بے لباس تنہائی
حوصلہ اتنا ابھی یار نہیں کر پائے
خود کو رُسوا سر بازار نہیں کر پائے
دل میں کرتے رہے دنیا کے سفر کا ساماں
گھر کی دہلیز مگر پار نہیں کر پائے
ہم کسی اور کے ہونے کی نفی کیا کرتے
اپنے ہونے پہ جب اصرار نہیں کر پائے
وہ بستیاں وہ بام وہ در کتنی دُور ہیں
مہتاؔب تیرے چاند نگر کتنی دور ہیں
وہ خواب جو غبارِ گُماں میں نظر نہ آئے
وہ خواب تجھ سے دیدۂ تر کتنی دور ہیں
بامِ خیالِ یار سے اُترے تو یہ کُھلا
ہم سے ہمارے شام و سحر کتنی دور ہیں
اہلِ دنیا دیکھتے ہیں کتنی حیرانی کے ساتھ
زندگی ہم نے بسر کر لی ہے نادانی کے ساتھ
اک تمناؤں کا بحر بے کراں تھا، اور ہم
کشتیٔ جاں کو بچا لائے ہیں آسانی کے ساتھ
اب کسے دل کے دھڑکنے کی صدائیں یاد ہیں
یہ بھی ہنگامہ گیا اس گھر کی ویرانی کے ساتھ