Showing posts with label مہتاب حیدر نقوی. Show all posts
Showing posts with label مہتاب حیدر نقوی. Show all posts

Thursday, 16 November 2023

دل تو اک شخص کو نخچیر بنانے میں گیا

 دل تو اک شخص کو نخچیر بنانے میں گیا

ساز دل نغمۂ دل گیر بنانے میں گیا

رات اک خواب جو دیکھا تو ہوا یہ معلوم

دن بھی اس خواب کی تصویر بنانے میں گیا

پرتوِ خانۂ موہوم غنیمت تھام مگر

وہ بھی اک نقشۂ تعمیر بنانے میں گیا

Monday, 7 February 2022

مختصر سی زندگی میں کتنی نادانی کرے

مختصر سی زندگی میں کتنی نادانی کرے

ان نظاروں کو کوئی دیکھے کہ حیرانی کرے

دھوپ میں ان آبگینوں کو لیے پھرتا ہوں میں

کوئی سایہ میرے خوابوں کی نگہبانی کرے

ایک میں ہوں اور دستک کتنے دروازوں پہ دوں

کتنی دہلیزوں پہ سجدہ ایک پیشانی کرے

Friday, 28 January 2022

پھر کسی خواب کی پلکوں پہ سواری آئی

 پھر کسی خواب کی پلکوں پہ سواری آئی

خوش اُمیدی کو لیے بادِ بہاری آئی

پھول آئے ہیں نئی رُت کے، نئی شاخوں پر

موجۂ ماہِ دلآرام کی باری آئی

نامُرادانہ کہیں عمر بسر ہوتی ہے

شاد کامی کے لیے، یاد تمہاری آئی

Sunday, 12 December 2021

جو ہم نے خواب دیکھے ہیں دولت اسی کی ہے

 جو ہم نے خواب دیکھے ہیں دولت اسی کی ہے

تنہائی کہہ رہی ہے؛ رفاقت اسی کی ہے

کب کوئی شہرِ شب کی حدیں پار کر سکا

یوں مفت جان کھونے کی عادت اسی کی ہے

کارِ جنوں میں اپنا کوئی دخل ہی نہیں

صحرا اسی کا، اور یہ وحشت اسی کی ہے

Sunday, 14 November 2021

ابھی رسوائیوں کا اک بڑا بازار آئے گا

 ابھی رسوائیوں کا اک بڑا بازار آئے گا

پھر اس کے بعد ہی وہ کوچۂ دلدار آئے گا

وطن کی ایک تصویر خیالی سب بناتے ہیں

خبر لیکن نہیں کیا اس میں کوئے یار آئے گا

گلِ شاخِ محبت پر لہو کا رنگ کھلتا ہے

کہ اب رنگِ حنا ذکرِ لب و رخسار آئے گا

Tuesday, 2 November 2021

ہمیں تو اب کے بھی آئی نہ راس تنہائی

 ہمیں تو اب کے بھی آئی نہ راس تنہائی

تمہیں بتاؤ کہ ہے کس کے پاس تنہائی؟

اسے بھی اب کے بہت رنج نارسائی ہے

کھڑی ہے شہر کی سرحد کے پاس تنہائی

اسی لیے تو نہ صحرا میں ہے نہ بستی میں

کہ ہو نہ جائے کہیں بے لباس تنہائی

Sunday, 31 October 2021

حوصلہ اتنا ابھی یار نہیں کر پائے

حوصلہ اتنا ابھی یار نہیں کر پائے

خود کو رُسوا سر بازار نہیں کر پائے

دل میں کرتے رہے دنیا کے سفر کا ساماں

گھر کی دہلیز مگر پار نہیں کر پائے

ہم کسی اور کے ہونے کی نفی کیا کرتے

اپنے ہونے پہ جب اصرار نہیں کر پائے

وہ بستیاں وہ بام وہ در کتنی دور ہیں

 وہ بستیاں وہ بام وہ در کتنی دُور ہیں

مہتاؔب تیرے چاند نگر کتنی دور ہیں

وہ خواب جو غبارِ گُماں میں نظر نہ آئے

وہ خواب تجھ سے دیدۂ تر کتنی دور ہیں

بامِ خیالِ یار سے اُترے تو یہ کُھلا

ہم سے ہمارے شام و سحر کتنی دور ہیں

Thursday, 7 January 2021

اہل دنیا دیکھتے ہیں کتنی حیرانی کے ساتھ

 اہلِ دنیا دیکھتے ہیں کتنی حیرانی کے ساتھ

زندگی ہم نے بسر کر لی ہے نادانی کے ساتھ

اک تمناؤں کا بحر بے کراں تھا، اور ہم

کشتیٔ جاں کو بچا لائے ہیں آسانی کے ساتھ

اب کسے دل کے دھڑکنے کی صدائیں یاد ہیں

یہ بھی ہنگامہ گیا اس گھر کی ویرانی کے ساتھ