جو ہم نے خواب دیکھے ہیں دولت اسی کی ہے
تنہائی کہہ رہی ہے؛ رفاقت اسی کی ہے
کب کوئی شہرِ شب کی حدیں پار کر سکا
یوں مفت جان کھونے کی عادت اسی کی ہے
کارِ جنوں میں اپنا کوئی دخل ہی نہیں
صحرا اسی کا، اور یہ وحشت اسی کی ہے
نظارہ درمیان رہے، رت جگا کریں
قامت اسی کا، اور قیامت اسی کی ہے
ہم بھی اُداس رات کے پہلو میں ہیں، مگر
ٹھہری شبِ فراق جو ساعت اسی کی ہے
مہتاب حیدر نقوی
No comments:
Post a Comment