Sunday, 12 December 2021

زخموں کی دکانوں پہ خریدار بھی آئے

 زخموں کی دکانوں پہ خریدار بھی آئے

بازار ہے تو رونقِ بازار بھی آئے

شانوں پہ یہاں سر کی جگہ کاسے لگے ہیں

گر سر کی بحالی ہو تو دستار بھی آئے

لو حق کے لیے اپنی جڑیں چھوڑ دیں ہم نے

اب گھر سے نکل کر کوئی انصار بھی آئے

کوشش کا یہ چاک اور گھماؤں گا میں کب تک

جیون پہ مِرے اب کوئی آکار بھی آئے

کام آئیں گے یہ چاک گریباں کے رفو میں

کچھ غم نہیں حصے میں اگر خار بھی آئے


معین شاداب

No comments:

Post a Comment