Sunday, 12 December 2021

کوئی یہ اقبال سے جا کر ذرا پوچھے ضیا

 کوئی یہ اقبال سے جا کر ذرا پوچھے ضیا

مدتوں سے کیوں تری بانگ درا خاموش ہے

ایک عرصہ ہو گیا نغمے نہیں فردوس گوش

تشنۂ ساز لب اقبال ہر اک گوش ہے

بزم ہستی میں وہی اب تک ہے پیدا انتشار

خود ہی مسلم مضطرب ہے خود مصیبت کوش ہے

اس گلستاں میں مناظر کا وہی ہے رنگ بھی

دیکھنے والا فریب دید میں مدہوش ہے

خوں شہیدوں کا رواں ہے جنگ کے میدان میں

اور غازی کی زباں پر نعرۂ پر جوش ہے

کیا قلم جولانیاں اپنی دکھا سکتا نہیں

وہ قلم جس کی نوا بھی صور کی ہم دوش ہے

کیا ترے جذبات کے شعلے بھڑک سکتے نہیں

کیا ترا وہ گلخن پر سوز اب گل پوش ہے

کیا ابھی باقی ہے تیری روح میں اگلی تڑپ

آ میں دیکھوں اب بھی کیا سینے میں تیرے جوش ہے

حشر ہے عالم میں برپا اور تو ہے مطمئن

شور ہے محفل میں پیدا اور تو خاموش ہے

جاگ اٹھی قوم تیرے نغمۂ بیدار سے

پہلے وہ بے ہوش تھی اور آج تو بے ہوش ہے

کند تلواریں ہوئیں عہد زرہ پوشی گیا

جاگ اٹھ غفلت سے وقت خود فراموشی گیا


محمد صادق ضیا

No comments:

Post a Comment