Sunday, 12 December 2021

یہ کیا کہ خلق کو پورا دکھائی دیتا ہوں

 یہ کیا کہ خلق کو پورا دکھائی دیتا ہوں

مگر میں خود کو ادھورا سجھائی دیتا ہوں

اجل کو جا کے گریبان سے پکڑ لائے

میں زندگی کو وہاں تک رسائی دیتا ہوں

میں اپنے جسم کے سب منقسم حوالوں کو

بنامِ رزق،۔ سخن کی کمائی دیتا ہوں

وہ زندگی میں مجھے پھر کبھی نہیں ملتا

میں اپنے خوابوں سے جس کو رہائی دیتا ہوں

مجھے صِلہ نہ ستائش، نہ عدل ہے مطلوب

میں اپنے سامنے اپنی صفائی دیتا ہوں

یہ شور میرا تخاطب نہیں سنے گا علی

میں خامشی کو مکمل سنائی دیتا ہوں


علی مزمل

No comments:

Post a Comment