عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جب محمدﷺ کا نام آیا ہے
ہاتھ آنکھوں سے جا لگایا ہے
کئی منظر ہیں روبرو، لیکن
سبز گُنبد نظر پہ چھایا ہے
زندگی کے گھنے اندھیرے میں
نُور کو روشنی بنایا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جب محمدﷺ کا نام آیا ہے
ہاتھ آنکھوں سے جا لگایا ہے
کئی منظر ہیں روبرو، لیکن
سبز گُنبد نظر پہ چھایا ہے
زندگی کے گھنے اندھیرے میں
نُور کو روشنی بنایا ہے
گڑیا
کھلونا تو نہیں ہوں میں
نا مٹی کا کوئی بت ہوں
کہ جب تم ہاتھ کو موڑو نہیں
ہو گی مجھے تکلیف
کہ جب تم آنکھ کو پھوڑو تو
دید کی خواہش لگا رکھی ہے اپنے یار سے
اور تم کو مل بھی کیا سکتا ہے اس بیمار سے
یہ ضروری تو نہیں ہے ہر شجر پھل دار ہو
ہم امیدیں باندھ لیتے ہیں سبھی اشجار سے
پھر وہی چیزوں کی باتیں، پھر وہی لوگوں کے عیب
آپ بوجھل ہی نہیں ہوتے گُنہ کے بار سے
کمال خود ہی چھلکنے لگا عبارت سے
جو میں نے لکھا ہے, لکھا ہے سب مہارت سے
نظارہ ایک تھا، ہم نے جدا جدا دیکھا
میں دیکھتی تھی بصیرت سے، وہ بصارت سے
اسی لیے ہے روش آنکھ کی ہوس سے تر
یہ دید بھرتی کہاں ہے کبھی نظارت سے
نئی بہار کے خوابوں میں ڈوب جاتے ہیں
جو ڈوبنا ہو سرابوں میں ڈوب جاتے ہیں
سوال اس نے کیا جب بھی لاجواب کیا
مِرے سوال جوابوں میں ڈوب جاتے ہیں
کسے خبر ہو کہ شب بھر کے ٹوٹتے نشے
سحر کے وقت شرابوں میں ڈوب جاتے ہیں
گڑیا
کھلونا تو نہیں ہوں میں
نا مٹی کا کوئی بت ہوں
کہ جب تم ہاتھ کو موڑو نہیں ہو گی مجھے تکلیف
کہ جب تم آنکھ کو پھوڑو تو چیخیں بھی نہ نکلیں گی
بنا سوچے
Detection of fall
زوال کی کھوج
بے حجاب اور بے باک علامتیں
حاملہ ہیں
برہنگی ابہام نہیں
بے چہرہ تہذیب کال کوٹھڑی میں آخری سانسیں لے رہی ہے
لومڑی کے خواب
رات کی آنکھ کھلی
خواب سوئے نہیں تھے
بے چین
بے شکل
طویل خواب
صاحب اولاد
شاعر
ہمیشہ سے صاحب اولاد ہوتا ہے
شاعری
وہ آہنگ ہے
جو بعد از موت
شاعر کو دوام بخشتی ہے
دیپ سے دوستی بناؤں گی
اس طرح روشنی بناؤں گی
خود بناؤں گی تیری دنیا میں
اس میں اپنی کمی بناؤں گی
قافیے دن سے ڈھونڈ لوں گی اور
شام سے شاعری بناؤں گی
روح کا نظارہ ہے، ایک لامکانی ہے
عکس عکس صحرا ہے، آنکھ آنکھ پانی ہے
منزلِ عدم سے کچھ خاص ربط ہے میرا
اضطراب ہے مجھ میں اور بے کرانی ہے
کشتیاں ہیں خوابوں کی نیلگوں سمندر میں
بہہ رہی ہیں تعبیریں، کس قدر روانی ہے
ہوس
بظاہر خوبصورت ہیں
تکلم کا طریقہ بھی بہت عمدہ سا ہے ان کا
بدن پر ڈال کر پوشاک مہنگے دام والی وہ
سمجھتے ہیں نگاہوں کی ہوس بھی ڈھانپ لی ہم نے
مگر وہ جانتے کب ہیں
خواہش کا خوگر
تکمیلِ خواہش
اطلاقِ آزادی ہے
اور خواہش
نفس پرستی
آدمی