Showing posts with label نیل احمد. Show all posts
Showing posts with label نیل احمد. Show all posts

Sunday, 10 December 2023

جب محمد کا نام آیا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جب محمدﷺ کا نام آیا ہے

ہاتھ آنکھوں سے جا لگایا ہے

کئی منظر ہیں روبرو، لیکن

سبز گُنبد نظر پہ چھایا ہے

زندگی کے گھنے اندھیرے میں

نُور کو روشنی بنایا ہے

Friday, 15 April 2022

وہ گڑیا توڑ دی میں نے

 گڑیا


کھلونا تو نہیں ہوں میں

نا مٹی کا کوئی بت ہوں

کہ جب تم ہاتھ کو موڑو نہیں 

ہو گی مجھے تکلیف

کہ جب تم آنکھ کو پھوڑو تو 

Monday, 21 March 2022

دید کی خواہش لگا رکھی ہے اپنے یار سے

 دید کی خواہش لگا رکھی ہے اپنے یار سے

اور تم کو مل بھی کیا سکتا ہے اس بیمار سے

یہ ضروری تو نہیں ہے ہر شجر پھل دار ہو

ہم امیدیں باندھ لیتے ہیں سبھی اشجار سے

پھر وہی چیزوں کی باتیں، پھر وہی لوگوں کے عیب

آپ بوجھل ہی نہیں ہوتے گُنہ کے بار سے

Tuesday, 29 September 2020

کمال خود ہی چھلکنے لگا عبارت سے

 کمال خود ہی چھلکنے لگا عبارت سے

جو میں نے لکھا ہے, لکھا ہے سب مہارت سے

نظارہ ایک تھا، ہم نے جدا جدا دیکھا

میں دیکھتی تھی بصیرت سے، وہ بصارت سے

اسی لیے ہے روش آنکھ کی ہوس سے تر

یہ دید بھرتی کہاں ہے کبھی نظارت سے

Monday, 28 September 2020

نئی بہار کے خوابوں میں ڈوب جاتے ہیں

 نئی بہار کے خوابوں میں ڈوب جاتے ہیں

جو ڈوبنا ہو سرابوں میں ڈوب جاتے ہیں

سوال اس نے کیا جب بھی لاجواب کیا

مِرے سوال جوابوں میں ڈوب جاتے ہیں

کسے خبر ہو کہ شب بھر کے ٹوٹتے نشے

سحر کے وقت شرابوں میں ڈوب جاتے ہیں

Sunday, 27 September 2020

کھلونا تو نہیں ہوں میں

گڑیا


کھلونا تو نہیں ہوں میں

نا مٹی کا کوئی بت ہوں

کہ جب تم ہاتھ کو موڑو نہیں ہو گی مجھے تکلیف

کہ جب تم آنکھ کو پھوڑو تو چیخیں بھی نہ نکلیں گی

بنا سوچے

Friday, 25 September 2020

زوال کی کھوج

  Detection of fall 

 زوال کی کھوج 


بے حجاب اور بے باک علامتیں

حاملہ ہیں

برہنگی ابہام نہیں

بے چہرہ تہذیب کال کوٹھڑی میں آخری سانسیں لے رہی ہے

Wednesday, 23 September 2020

لومڑی کے خواب

 لومڑی کے خواب


رات کی آنکھ کھلی

خواب سوئے نہیں تھے

بے چین

بے شکل

طویل خواب

Monday, 21 September 2020

شاعر ہمیشہ سے صاحب اولاد ہوتا ہے

 صاحب اولاد


شاعر

ہمیشہ سے صاحب اولاد ہوتا ہے

شاعری

وہ آہنگ ہے

جو بعد از موت

شاعر کو دوام بخشتی ہے

دیپ سے دوستی بناؤں گی

 دیپ سے دوستی بناؤں گی

اس طرح روشنی بناؤں گی

خود بناؤں گی تیری دنیا میں

اس میں اپنی کمی بناؤں گی

قافیے دن سے ڈھونڈ لوں گی اور

شام سے شاعری بناؤں گی

روح کا نظارہ ہے، ایک لامکانی ہے

 روح کا نظارہ ہے، ایک لامکانی ہے

عکس عکس صحرا ہے، آنکھ آنکھ پانی ہے

منزلِ عدم سے کچھ خاص ربط ہے میرا

اضطراب ہے مجھ میں اور بے کرانی ہے

کشتیاں ہیں خوابوں کی نیلگوں سمندر میں

بہہ رہی ہیں تعبیریں، کس قدر روانی ہے

Saturday, 19 September 2020

ہوس بظاہر خوبصورت ہیں

 ہوس


بظاہر خوبصورت ہیں

تکلم کا طریقہ بھی بہت عمدہ سا ہے ان کا 

بدن پر ڈال کر پوشاک مہنگے دام والی وہ 

سمجھتے ہیں نگاہوں کی ہوس بھی ڈھانپ لی ہم نے

مگر وہ جانتے کب ہیں 

خواہش کا خوگر

 خواہش کا خوگر


تکمیلِ خواہش

اطلاقِ آزادی ہے

اور خواہش

نفس پرستی

آدمی

Wednesday, 16 September 2020

ایسی ویرانی کہ شہر دل کا ہر گھر بے مکیں

ایسی ویرانی کہ شہرِ دل کا ہر گھر بے مکیں
ایسی تنہائی کبھی دل نے نہیں جھیلی کہیں
ایسے منظر جن میں دوری کی گھٹا آئے امڈ
ایسی آنکھیں گر برس جائیں تو پھر تھمتی نہیں
ایسا دل جو ٹوٹ کر بکھرا کسی کے عشق میں
ایسے پتھر کو کبھی ٹھوکر نہیں دینا کہیں

شور و شر نفرت محبت سب نگلتی ہے زمیں

شور و شر، نفرت محبت سب نگلتی ہے زمیں
جو کھلاتے ہیں اسے، وہ سب اگلتی ہے زمیں
ریت ہاتھوں میں سماتی ہی نہیں ہے دیر تک
اب سمجھ آیا کیوں پیروں سے نکلتی ہے زمیں
یہ مظاہر بھی بنے ہیں فطرت انسان پر
بے سکونی تہہ میں ہو تو پھر اچھلتی ہے زمیں