Wednesday, 16 September 2020

شور و شر نفرت محبت سب نگلتی ہے زمیں

شور و شر، نفرت محبت سب نگلتی ہے زمیں
جو کھلاتے ہیں اسے، وہ سب اگلتی ہے زمیں
ریت ہاتھوں میں سماتی ہی نہیں ہے دیر تک
اب سمجھ آیا کیوں پیروں سے نکلتی ہے زمیں
یہ مظاہر بھی بنے ہیں فطرت انسان پر
بے سکونی تہہ میں ہو تو پھر اچھلتی ہے زمیں
وہ فریب ذات ہے؟ یا پھر نمائش آب کی
یوں سرابوں سی بیاباں میں پھسلتی ہے زمیں
شعر کے جوہر میں معنی کا سمندر موجزن
لہر جیسے پاؤں کے نیچے بدلتی ہے زمیں

نیل احمد

No comments:

Post a Comment