شکستہ خواب کے ملبے میں ڈھونڈھتا کیا ہے
کھنڈر کھنڈر ہے یہاں دھول کے سوا کیا ہے
نظر کی دھند میں ہیں بھولی بسری تصویریں
پلٹ کے دیکھنے والے، یہ دیکھنا کیا ہے؟
ابھی تو کاٹ رہی ہے ہر ایک سانس کی دھار
رہے گی دھوپ مِرے سر پہ آخری دن تک
جواں ہے پیڑ، مگر اس کا آسرا کیا ہے
تجھے پسند کہاں حال پوچھنا میرا
تِری نگاہ میں لیکن سوال سا کیا ہے
دھواں نہیں نہ سہی، آگ تو نظر آئے
یوں چپکے چپکے سلگنے سے فائدہ کیا ہے
اداس رات کی خاموشیوں میں اے قیصر
قریب آتی ہوئی دور کی صدا کیا ہے
قیصر شمیم
No comments:
Post a Comment