Wednesday, 16 September 2020

شکستہ خواب کے ملبے میں ڈھونڈھتا کیا ہے

شکستہ خواب کے ملبے میں ڈھونڈھتا کیا ہے
کھنڈر کھنڈر ہے یہاں دھول کے سوا کیا ہے
نظر کی دھند میں ہیں بھولی بسری تصویریں
پلٹ کے دیکھنے والے، یہ دیکھنا کیا ہے؟
ابھی تو کاٹ رہی ہے ہر ایک سانس کی دھار
ازل جب آئے تو دیکھوں کہ انتہا کیا ہے
رہے گی دھوپ مِرے سر پہ آخری دن تک
جواں ہے پیڑ، مگر اس کا آسرا کیا ہے
تجھے پسند کہاں حال پوچھنا میرا
تِری نگاہ میں لیکن سوال سا کیا ہے
دھواں نہیں نہ سہی، آگ تو نظر آئے
یوں چپکے چپکے سلگنے سے فائدہ کیا ہے
اداس رات کی خاموشیوں میں اے قیصر
قریب آتی ہوئی دور کی صدا کیا ہے

قیصر شمیم

No comments:

Post a Comment