حواسِ شہر پہ جب رات چھانے لگتی ہے
تری جدائی مری جاں کو آنے لگتی ہے
کبھی کبھی میں بہت کھلکھلا کے ہنستا ہوں
کبھی کبھی میری وحشت ٹھکانے لگتی ہے
جو قہقہے نہ لگاؤں تو میرے سینے سے
وہ جس کو میں نہیں اچھا لگا تھا کالج میں
اکیلی ہو تو مرے گیت گانے لگتی ہے
احمد حماد
No comments:
Post a Comment