Wednesday, 16 September 2020

حواسِ شہر پہ جب رات چھانے لگتی ہے

حواسِ شہر پہ جب رات چھانے لگتی ہے
تری جدائی مری جاں کو آنے لگتی ہے
کبھی کبھی میں بہت کھلکھلا کے ہنستا ہوں
کبھی کبھی میری وحشت ٹھکانے لگتی ہے
جو قہقہے نہ لگاؤں تو میرے سینے سے
کسی کے رونے کی آواز آنے لگتی ہے
وہ جس کو میں نہیں اچھا لگا تھا کالج میں
اکیلی ہو تو مرے گیت گانے لگتی ہے

احمد حماد

No comments:

Post a Comment