Wednesday, 16 September 2020

یہی نہیں کہ دعائیں اثر سے خالی ہیں

یہی نہیں کہ دعائیں اثر سے خالی ہیں
یہاں تو پیڑ بھی برگ و ثمر سے خالی ہیں
وہ شب گرفتہ نئیں بھی تو کس بھروسے پر
جنہیں خبر ہو کہ راتیں سحر سے خالی ہیں
یہاں کسی میں کوئی عکس تیرے جیسا نہیں
تمام آئینے خوش کن خبر سے خالی ہیں
کہیں بھی جاؤں مِرے دشت یاد رکھتا ہے
یہ تیری شامیں جو خوف و خطر سے خالی  ہیں
تو کیا ہم اڑنے کی خواہش بھی ترک کر ڈالیں
ہمارے جسم اگر بال و پر سے خالی ہیں

شمشیر حیدر

No comments:

Post a Comment