یہی نہیں کہ دعائیں اثر سے خالی ہیں
یہاں تو پیڑ بھی برگ و ثمر سے خالی ہیں
وہ شب گرفتہ نئیں بھی تو کس بھروسے پر
جنہیں خبر ہو کہ راتیں سحر سے خالی ہیں
یہاں کسی میں کوئی عکس تیرے جیسا نہیں
کہیں بھی جاؤں مِرے دشت یاد رکھتا ہے
یہ تیری شامیں جو خوف و خطر سے خالی ہیں
تو کیا ہم اڑنے کی خواہش بھی ترک کر ڈالیں
ہمارے جسم اگر بال و پر سے خالی ہیں
شمشیر حیدر
No comments:
Post a Comment