Showing posts with label خلیل صادق. Show all posts
Showing posts with label خلیل صادق. Show all posts

Thursday, 21 March 2024

چلمن شرم و حیا رخ سے اٹھا دی جائے

 چلمنِ شرم و حیا رُخ سے اُٹھا دی جائے

اب نہ جذبات کے شعلوں کو ہوا دی جائے

پیار کرنا ہے اگر جُرم تو دنیا والو

میں بھی مجرم ہوں جو جی چاہے سزادی جائے

رکھ کے مرہم کوئی مظلوم کے زخموں پہ نیا

داستاں ظُلم و تشدد کی دبا دی جائے

Thursday, 1 February 2024

قبائے زیست جو تار محبت سے رفو ہوتی

 قبائے زیست جو تارِ محبت سے رفُو ہوتی

ہماری چاک دامانی نہ رُسوا کُو بکُو ہوتی

اگر وہ دیکھتے اک بار بھی مے پاش نظروں سے

نہ پھر بادہ کشوں کو خواہشِ جام و سبُو ہوتی

اشاروں سے بھلا کیا مُدعائے دل بیاں ہو گا

اکیلے میں جو تم ملتے تو کوئی گُفتگو ہوتی

Wednesday, 8 September 2021

سو نہ یوں غفلت کی چادر تان کر

سو نہ یوں غفلت کی چادر تان کر

جاگ اپنے آپ پر احسان کر

کامیابی کی تمنّا ہے اگر

دل میں پیدا جذبۂ ایمان کر

ابنِ آدم چھوڑ کر شیطانیت

اب تو اپنے آپ کو انسان کر

Wednesday, 2 June 2021

جرم سب ان کے سر گئے شاید

جرم سب ان کے سر گئے شاید

دن ہمارے سنور گئے شاید

سہمی سہمی ہوئی نظر توبہ

اپنے سائے سے ڈر گئے شاید

حُسن کا جن کے خُوب چرچا تھا

وہ حسینوں پہ مر گئے شاید