چلمنِ شرم و حیا رُخ سے اُٹھا دی جائے
اب نہ جذبات کے شعلوں کو ہوا دی جائے
پیار کرنا ہے اگر جُرم تو دنیا والو
میں بھی مجرم ہوں جو جی چاہے سزادی جائے
رکھ کے مرہم کوئی مظلوم کے زخموں پہ نیا
داستاں ظُلم و تشدد کی دبا دی جائے
چلمنِ شرم و حیا رُخ سے اُٹھا دی جائے
اب نہ جذبات کے شعلوں کو ہوا دی جائے
پیار کرنا ہے اگر جُرم تو دنیا والو
میں بھی مجرم ہوں جو جی چاہے سزادی جائے
رکھ کے مرہم کوئی مظلوم کے زخموں پہ نیا
داستاں ظُلم و تشدد کی دبا دی جائے
قبائے زیست جو تارِ محبت سے رفُو ہوتی
ہماری چاک دامانی نہ رُسوا کُو بکُو ہوتی
اگر وہ دیکھتے اک بار بھی مے پاش نظروں سے
نہ پھر بادہ کشوں کو خواہشِ جام و سبُو ہوتی
اشاروں سے بھلا کیا مُدعائے دل بیاں ہو گا
اکیلے میں جو تم ملتے تو کوئی گُفتگو ہوتی
سو نہ یوں غفلت کی چادر تان کر
جاگ اپنے آپ پر احسان کر
کامیابی کی تمنّا ہے اگر
دل میں پیدا جذبۂ ایمان کر
ابنِ آدم چھوڑ کر شیطانیت
اب تو اپنے آپ کو انسان کر
جرم سب ان کے سر گئے شاید
دن ہمارے سنور گئے شاید
سہمی سہمی ہوئی نظر توبہ
اپنے سائے سے ڈر گئے شاید
حُسن کا جن کے خُوب چرچا تھا
وہ حسینوں پہ مر گئے شاید