سو نہ یوں غفلت کی چادر تان کر
جاگ اپنے آپ پر احسان کر
کامیابی کی تمنّا ہے اگر
دل میں پیدا جذبۂ ایمان کر
ابنِ آدم چھوڑ کر شیطانیت
اب تو اپنے آپ کو انسان کر
خواہشاتِ نفس کو جو دے ہوا
ایسی چیزوں کا نہ تو ارمان کر
کیا بتائے گا وہ منزل کا پتہ
رُک گیا جو خُود کو منزل جان کر
یہ گُزر جائے تو پھر آتا نہیں
وقت کی تو قدر اے نادان کر
ہو گئے بیماریوں میں مُبتلا
جو بہت پیتے تھے پانی چھان کر
پھر نئے انداز سے دھوکہ دیا
ہم بہت پچھتائے دل کی مان کر
ساتھ برسوں جو مِرے صادق رہے
بن گئے کیوں اجنبی پہچان کر
خلیل صادق
No comments:
Post a Comment