Showing posts with label عنبرین صلاح الدین. Show all posts
Showing posts with label عنبرین صلاح الدین. Show all posts

Saturday, 26 November 2022

کب تک باتیں کرتے جائیں در اور میں

 کب تک باتیں کرتے جائیں در اور میں

ہر آہٹ پر چونک اٹھتے ہیں گھر اور میں

دن بھر اک دُوجے سے لڑتے رہتے ہیں

رات کو تھک کر سو جاتے ہیں ڈر اور میں

گھر سے باہر بھی میری اک دنیا ہے

اور اس دنیا سے باہر ہیں گھر اور میں

Sunday, 31 July 2022

مجھ کو تم شبدوں کی دیوی کہتے تھے

جو کچھ میں نے تمہیں لکھا تھا

شبد نہیں تھے

میرے ہاتھ کی ہر انگلی سے خون بہا تھا

مجھ کو تم ہی شبدوں کی دیوی کہتے تھے

یوں میرے شبدوں کا تم اپمان کرو گے

میرے دھیان میں کب ایسا تھا

Friday, 28 January 2022

تری آواز کے مرہم سے اپنے زخم بھر لوں گی

 تری آواز کا مرہم


جو اب اک لفظ بھی بولے گا تُو

میں قید کر لُوں گی

تِری آواز کو مٹھی میں بھر لوں گی

تِری فرقت کا موسم جب مِری کھڑکی میں اترے گا

تِری آواز کا زیور پہننے کے لئے جب کان ترسیں گے

Sunday, 26 July 2020

کب تک باتیں کرتے جائیں در اور میں

کب تک باتیں کرتے جائیں در اور میں
ہر آہٹ پر چونک اٹھتے ہیں گھر اور میں
دن بھر اک دوجے سے لڑتے رہتے ہیں
رات کو تھک کر سو جاتے ہیں ڈر اور میں
گھر سے "باہر" بھی میری اک دنیا ہے
اور اس دنیا سے باہر ہیں "گھر" اور میں

یہ بام و در بھی مرے ساتھ خواب دیکھیں گے

یہ بام و در بھی مِرے ساتھ خواب دیکھیں گے
تمام "رات" مِرا "اضطراب" دیکھیں گے
جہانِ حرف و معانی میں جس نے الجھایا
ہم اس کے ہاتھ میں اپنی کتاب دیکھیں گے
وہ میرے شہر میں آئے گا اور ملے گا نہیں
وہ کر سکے گا بھلا اِجتناب؟ دیکھیں گے؟

Sunday, 21 July 2019

یہی منظر تھے انجانے سے پہلے

یہی منظر تھے انجانے سے، پہلے
تمہارے شہر میں آنے سے پہلے
زمیں کی دھڑکنیں پہچان لینا
کوئی دیوار بنوانے سے پہلے
پلٹ کر کیوں مجھے سب دیکھتے ہیں
تمہارا ذکر فرمانے سے پہلے

رستہ روکتی خاموشی نے کون سی بات سنانی ہے

رستہ روکتی خاموشی نے کون سی بات سنانی ہے
رات کی آنکھیں جان چکی ہیں، کس کے پاس کہانی ہے
جب اس کی وسعت سے نکلے میری وحشت، خواب، سراب
دامن جھاڑ کے دشت پکارا، اب کیسی ویرانی ہے
منظر ہے کھڑکی کے اندر یا ہے کھڑکی سے باہر
گردوں کی گیرائی ہے یا خاک نے چادر تانی ہے

بول کنارے

بول کنارے

کانچ کی چُوڑی ہاتھ پہ توڑ کے
ٹکڑوں میں اک خواب سجایا
بادل میں اک شکل بنا کر
پورے سال کی بارش آنکھ سے برسا دی
رخساروں سے پلک اٹھا کر

Wednesday, 14 December 2016

کوئی آہٹ نہیں آتی سر دشت گماں جاناں

کوئی آہٹ نہیں آتی سرِ دشتِ گماں، جاناں
غبارِ راہ کو تکتے ہوئیں آنکھیں دھواؑں، جاناں
چمکتا ہے ہمارے نام کا تارا جہاں، جاناں
نہ جانے کس افق کے پار ہے وہ کہکشاں، جاناں
مجھے یہ وہم لاحق تھا، در و دالان ہیں میرے
مجھے یہ خوش گمانی تھی، مِرا ہے یہ مکاں، جاناں 

اس کی اور مری خاطر یہ زمین یہ تارے

اس کی اور مری خاطر 
یہ زمین، یہ تارے
گھومتے ہیں مستی میں
جتنے راز پنہاں ہیں
اوج میں، بلندی پر
اور زمیں کی پستی میں

بام سے ڈھل چکا ہے آدھا دن

بام سے ڈھل چکا ہے آدھا دن
کس سے ملنے چلا ہے آدھا دن
تم جو چاہو تو رک بھی سکتا ہے
ورنہ کس سے رکا ہے آدھا دن
جھانکتی شام کے کنارے پر
مجھ سے پھر لڑ پڑا ہے آدھا دن

اسیر خواب نئی جستجو کے در کھولیں

اسیرِ خواب نئی جستجو کے در کھولیں
ہوا پہ ہاتھ رکھیں اور اپنے پر کھولیں
سمیٹ اپنے سرابوں میں بارشوں کا جمال
کہاں کا قصد ہے، یہ راز خوش نظر کھولیں
کریں یوں پھر اسے بھولنے کی اک سازش
چلو، کہ آج کوئی نامۂ دِگر کھولیں

ہمیں تو خواب نے آ کر جگایا ہے

ہمیں تو خواب نے آ کر جگایا ہے
یہاں چاروں طرف جو نیند سے بوجھل
خمار آلود آنکھیں ہیں
انہیں کس نے بلایا ہے
کبھی ایسا بھی ہونا ہے
ہمیں خوابوں کے رستوں سے

Friday, 11 March 2016

اس کے دھیان کی دل میں پیاس جگا لی جائے

اس کے دھیان کی دل میں پیاس جگا لی جائے
ایک بھی شام نہ پھر اس نام سے خالی جائے
آنکھوں میں کاجل کی پرت جما لی جائے
سکھیوں سے یوں پریت کی جوت چھپا لی جائے
ریت ہے، سورج ہے، وسعت ہے، تنہائی ہے
لیکن، کب اس دل کی خام خیالی جائے

مرے گھر سے تمہارے آستاں تک

مِرے گھر سے تمہارے آستاں تک
گماں کے رنگ ہیں حدِ گماں تک
کئی موسم ہیں پھیلے درمیاں میں
بہاروں سے تِری، میری خزاں تک
ابھی سے رات کیوں ڈھلنے لگی ہے
ابھی آئیں نہیں باتیں زباں تک

سیکڑوں خوف مرے دل میں جڑے ہیں صاحب

سیکڑوں خوف مِرے دل میں جڑے ہیں صاحب
مِرے ڈر میرے رگ و پے میں گڑے ہیں صاحب
اِس برس ہم کو ستایا ہے زمانے نے بہت
سارے موسم تِرے ہجراں سے کڑے ہیں صاحب
آج پوچھے نہ کوئی صبر کے معنی ہم سے
آج ہم آخری منزل پہ کھڑے ہیں صاحب

سانس بھر کے لیے مل پائی رسائی مجھ کو

سانس بھر کے لیے مل پائی رسائی مجھ کو
پھر اسی شہر میں تقدیر ہے لائی مجھ کو
میں تِری قبر کی مٹی ہی جو چھونے پاتی
عمر بھر کے لیے کافی تھی کمائی مجھ کو
تُو یہیں ایسے ہی رستوں میں چلا کرتی تھی
تیری آہٹ مِری آنکھوں نے دکھائی مجھ کو

Thursday, 31 October 2013

پھر مرے بام و در سجانے سے

پھر مِرے بام و در سجانے سے
کون روکے گا غم کو آنے سے
سانس رک جائے تو سکوں آئے
درد تھم جائے اِس بہانے سے
رنگ، خوشبو، سحاب، سب آئے
تم نہ آئے مِرے بلانے سے