کب تک باتیں کرتے جائیں در اور میں
ہر آہٹ پر چونک اٹھتے ہیں گھر اور میں
دن بھر اک دُوجے سے لڑتے رہتے ہیں
رات کو تھک کر سو جاتے ہیں ڈر اور میں
گھر سے باہر بھی میری اک دنیا ہے
اور اس دنیا سے باہر ہیں گھر اور میں
کب تک باتیں کرتے جائیں در اور میں
ہر آہٹ پر چونک اٹھتے ہیں گھر اور میں
دن بھر اک دُوجے سے لڑتے رہتے ہیں
رات کو تھک کر سو جاتے ہیں ڈر اور میں
گھر سے باہر بھی میری اک دنیا ہے
اور اس دنیا سے باہر ہیں گھر اور میں
جو کچھ میں نے تمہیں لکھا تھا
شبد نہیں تھے
میرے ہاتھ کی ہر انگلی سے خون بہا تھا
مجھ کو تم ہی شبدوں کی دیوی کہتے تھے
یوں میرے شبدوں کا تم اپمان کرو گے
میرے دھیان میں کب ایسا تھا
تری آواز کا مرہم
جو اب اک لفظ بھی بولے گا تُو
میں قید کر لُوں گی
تِری آواز کو مٹھی میں بھر لوں گی
تِری فرقت کا موسم جب مِری کھڑکی میں اترے گا
تِری آواز کا زیور پہننے کے لئے جب کان ترسیں گے