کوئی آہٹ نہیں آتی سرِ دشتِ گماں، جاناں
غبارِ راہ کو تکتے ہوئیں آنکھیں دھواؑں، جاناں
چمکتا ہے ہمارے نام کا تارا جہاں، جاناں
نہ جانے کس افق کے پار ہے وہ کہکشاں، جاناں
مجھے یہ وہم لاحق تھا، در و دالان ہیں میرے
تمہاری گفتگو سنتی رہی دنیا، پہ دَم بھر میں
ہماری خوش کلامی بھی بنی اِک داستاں، جاناں
مِری دہلیز پر صدیوں سے ہے پہرا عذابوں کا
مجھے اِذنِ سفر کب ہے جو کھولوں بادباں، جاناں
عجب بے چارگی ہے، ہر طرف ہیں خوف کے پہرے
جہانِ ہست کی وحشت میں ہوں بے سائباں، جاناں
قفس کے اس طرف پہنچے کبھی میری کہانی بھی
افق کے پار بھی جائے کبھی میری فغاں، جاناں
کبھی مجھ کو پکارو تو مِرے اپنے حوالے سے
تمہارے ہاتھ پہ رکھ دوں، زمین و آسماں، جاناں
عنبرین صلاح الدین
No comments:
Post a Comment